ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إذا عَطَسَ أَحَدُكُم فَلْيَقُل: الحَمْدُ للهِ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أو صاحبُهُ: يَرْحَمُكَ الله، فإذا قال له: يرحمك الله، فَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُم الله ويُصْلِحُ بَالَكُم».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو ”الحمد اللہ“ کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی ”يَرْحَمُكَ الله“ کہے۔ جب ساتھی ”يَرْحَمُكَ اللہ“ کہے، تو اس کے جواب میں چھینکنے والا ”يَهْدِيكُم الله ويُصْلِحُ بَالَكُم“ (اللہ تمھیں ہدایت دے اور تمھارے حالات درست فرمادے) کہے۔
تشریح
حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی مسلمان چھینکے، تو اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف بیان کرے؛ کیوں کہ چھینکنے والا چھینک کے ذریعے اپنے دماغ میں موجود گندے بخارات کے نکلنے کی نعمت و منفعت کو حاصل کرتا ہے کہ اگر وہ دماغ میں موجود رہتے، تو اس سے بہتیری تکلیف دہ بیماریاں پیدا ہوتیں۔ اس لیے اس نعمت کے حصول پر اس کے لیے مشروع ہے کہ وہ اللہ کی تعریف و حمد بیان کرے۔ پھر اس کا سننے والا ”يَرْحَمُكَ الله“ کہہ کر اسے دعا دے۔ اور چھینکنے والا ”يَهْدِيكُم الله ويُصْلِحُ بَالَكُم“ کہہ کر اس کا جواب دے۔ اس طرح چھینک کے ذریعے چھینکنے والے اور سننے والے کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اور یہ لوگوں پر اس دین کے عظیم فضل و مہربانی کی وجہ سے ہے۔
تشریح: العربية
دل الحديث على أن المسلم إذا عطس فعليه أن يحمد الله تعالى ؛ لأن العاطس قد حصل له بالعطاس نعمة ومنفعة بخروج الأبخرة المحْتَقَنَة في دِماغِه التي لو بقيت فيه لأحدثت له أمراضًا عَسِرَة، لذا شُرع له حمد الله تعالى على هذه النعمة، ثم يجب على من يسمعه أن يشمته، بأن يقول له: يرحمك الله، ويرد عليه العاطس بقوله: يهديكم الله ويصلح بالكم، فحصل بالعطاس منفعةٌ عائدة على العاطس وعلى السامع، وهذا من عظيم فضل هذا الدين على الناس.
- السنة أن يقول العاطس: الحمد لله, ويجب على من سمعه بعد حمد الله أن يقول له: يرحمك الله, ويرد العاطس بعدها بقوله: يهديكم الله ويصلح بالكم.
- الزيادة على ما ورد من الأدعية في الحديث غير مشروعة والاتباع خير من الابتداع.
- الحث على مقابلة الدعاء بمثله، والمكافأة على الجميل بالجميل مما يدعم الحب والإخاء.
- الحديث دليل على عظيم نعمة الله على العاطس, ويؤخذ ذلك مما رتب عليه من الخير.
- شرع الله هذه النعم المتواليات في زمن يسير فضلا منه وإحسانا.