حدیث

جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملاقات کی، تو اس کو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: ”تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «مَنْ عَادَ مَرِيضًا أَو زَارَ أَخًا لَهُ فِي الله، نَادَاهُ مُنَادٍ: بِأَنْ طِبْتَ، وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَتَبَوَّأتَ مِنَ الجَنَّةِ مَنْزِلاً».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملاقات کی، اس کو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: ”تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا“۔

تشریح

جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے یا پھر اللہ کی خاطر اپنے کسی بھائی سے ملاقات کے لیےجاتا ہے، اللہ کے ہاں سے ایک فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے کہ تو گناہوں سے پاک ہو، اللہ کے ہاں تیرے لیے جو بے پناہ اجر ہے اس سے تو خوش ہو اور جنت کا محل تیرا مسکن بنے۔

تشریح: العربية

من ذهب ليعود مريضًا أو يزور أخًا له لوجه الله عز وجل فإن ملكًا يناديه من عند الله تعالى أن طهرت من الذنوب وانشرحت بما لك عند الله من جزيل الأجر، واتخذت من الجنة قصرًا تسكنه.

  • استحباب زيارة المريض وزيارة الإخوان في الله.
  • لكل ملك من الملائكة مقام معلوم، ومنها من تبشِّر المؤمنين إذا قاموا بأعمال يحبها الله ورسوله.
  • وعد الله تعالى للزائر والعائد ابتغاء وجهه بأن يطهره من ذنوبه، ويعظم أجره ويدخله الجنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید