حدیث

اللہ تعالی پر بھروسہ کرنا واجب ہے، اللہ تعالی کا اپنے انبیاء ورسل اور اولیاء کی حفاظت کا بیان

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: نَظَرت إِلى أقدام المشركين ونحن في الغار وهم على رؤُوسِنا، فقلت: يا رسول الله، لَو أنَّ أحَدَهم نظر تحت قدَمَيه لأَبصَرَنا، فقال: «مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكرٍ بِاثنَينِ الله ثَالِثُهُمَا».

ترجمہ

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ غار میں تھے، میں نے مشرکین کے پاؤں کی طرف دیکھا، وہ ہمارے سروں پر تھے، میں نے کہا اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی اگر اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو ہم انہیں نظر آ جائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اے ابو بکر! ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔

تشریح

یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب آپ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے اعلانیہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، لوگوں کو بلایا اور لوگوں نے آپ کی اتباع کی۔ مشرکین ڈر گئے اور آپ کی دعوت کے خلاف کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ پر سختی کی اورقول و فعل کے ذریعہ آپ ﷺ کو تکلیفیں پہنچائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی۔ آپ ﷺ کے ساتھ صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ، راہبر اور خادم تھے۔پس آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے سے ہجرت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ ہو لیے، جب مشرکین نے آپ ﷺ کی مکہ سے روانگی کی خبر سنی تو آپ ﷺ کو پکڑ کر لانے والے کو دو سو (200) اونٹ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پکڑ لانے پر سو (100) اونٹ انعام رکھا، لوگ آپ دونوں کو پہاڑوں، وادیوں اور غاروں اور ہر جگہ تلاش کرنے لگے، یہاں تک کہ اس غار پر آ رُکے جس میں نبی ﷺ اور ابوبکر پناہ گزین تھے۔ یہ غار ثور ہے جہاں تین دنوں تک چھپے رہے یہاں تک کہ آپ دونوں کی تلاش کا معاملہ نرم پڑگیا، چنانچہ اسی موقعہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا اے اللہ کے رسول ﷺ! ان میں سے کوئی اگر اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو ہم انہیں نظر آ جائیں۔ اس لیے کہ ہم ان کے قدموں کے نیچے غار میں ہی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:اے ابو بکر! ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا﴾ (سورۃ التوبۃ: 40) ترجمہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے یہ دونوں جملے بھی کہے ہوں یعنی ”مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا“ اور ”لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا“۔ آپ ﷺ کا یہ کہنا: ”ان دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے“ یعنی کیا کوئی ان دونوں کو اذیت وغیرہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے؟ اور جواب ہے: نہیں کوئی یہ طاقت نہیں رکھ سکتا ہے۔ اس لیے کہ جسے اللہ دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں، اس کو کوئی رسوا نہیں کرسکتا جسے اللہ تعالی عزت دے اور جسے اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، (فرمان الٰہی ہے) ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (آل عمران: 26) ترجمہ: ”آپ کہہ دیجیے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے“۔

تشریح: العربية

هذه القصة كانت حينما هاجر النبي صلى الله عليه وسلم من مكة إلى المدينة، وذلك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما جهر بالدعوة، ودعا الناس، وتبعوه، وخافه المشركون، وقاموا ضد دعوته، وضايقوه، وآذوه بالقول وبالفعل، فأذن الله له بالهجرة من مكة إلى المدينة ولم يصحبه إلا أبو بكر رضي الله عنه ، والدليل الرجل الذي يدلهم على الطريق، والخادم، فهاجر بأمر الله، وصحبه أبو بكر رضي الله عنه ، ولما سمع المشركون بخروجه من مكة، جعلوا لمن جاء به مائتي بعير، ولمن جاء بأبي بكر مائة بعير، وصار الناس يطلبون الرجلين في الجبال، وفي الأودية وفي المغارات، وفي كل مكان، حتى وقفوا على الغار الذي فيه النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر، وهو غار ثور الذي اختفيا فيه ثلاث ليال، حتى يخفَّ عنهما الطلب، فقال أبو بكر رضي الله عنه : يا رسول الله لو نظر أحدهم إلى قدميه لأبصرنا؛ لأننا في الغار تحته، فقال: "ما ظنك باثنين الله ثالثهما"، وفي كتاب الله أنه قال: (لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا)، فيكون قال الأمرين كليهما، أي: قال: "ما ظنك باثنين الله ثالثهما"، وقال "لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا" . فقوله: "ما ظنك باثنين الله ثالثهما" يعني: هل أحد يقدر عليهما بأذية أو غير ذلك؟ والجواب: لا أحد يقدر؛ لأنه لا مانع لما أعطى الله ولا معطي لما مَنَع، ولا مُذِّل لمن أعز ولا معز لمن أذل، (قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ).

  • منقبة أبي بكر الصديق -رضي الله عنه- في صحبته لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- في هجرته من مكة إلى المدينة.
  • إشفاق أبي بكر الصديق -رضي الله عنه-، ومدى حبه لرسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وخوفه عليه من الأعداء.
  • وجوب الثقة بالله -عز وجل-، والاطمئنان إلى رعايته، وعنايته بعد بذل الجهد في أخذ الحيطة والحذر.
  • عناية الله تعالى بأنبيائه وأوليائه، ورعايته لهم بالنصر؛ قال تعالى: (إنا لننصر رسلنا والذين آمنوا في الحياة الدنيا ويوم يقوم الأشهاد).
  • تنبيه على أن من توكل على الله كفاه، ونصره، وأعانه، وَكَلَأَه وحفظه.
  • كمال توكل النبي -صلى الله عليه وسلم- على ربه، وأنَّه معتمد عليه، ومفوض إليه أمره.
  • شجاعة النبي -صلى الله عليه وسلم-، وتطمينه للقلوب والنفوس.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید