حدیث

بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ -صلّى اللهُ عليه وسَلَّم يقول-: «إن العبد ليتكلم بالكلمة ما يتبين فيها يزلُّ بها إلى النار أبعدَ مما بين المشرق والمغرب».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے“۔

تشریح

نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کوئی آدمی جب گفتگو کرتا ہے تو بالکل بھی نہیں سوچتا کہ آیا یہ بات جو وہ کر رہا ہے اچھی ہے یا نہیں؟۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی گفتگو کرنے والا اس عدمِ تفکیر کی وجہ سے کسی حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ کی صورت میں اللہ کے عذاب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ عیاذا باللہ۔ اور بعض اوقات تو وہ اتنی دور جہنم میں جا گرتا ہے جتنی مشرق و مغرب کے مابین مسافت ہوتی ہے۔

تشریح: العربية

يخبرنا صلى الله عليه وسلم أن هناك من الناس من لا يفكر عند إرادته الكلام هل هذا الكلام الذي سيقوله خير أم لا؟. والنتيجة تكون أن هذا المتكلم يقع بسبب عدم هذا التفكير في المحظور، ويعرض نفسه لعذاب الله في نار جهنم – عياذاً بالله- وربما يسقط في النار لمسافة هي أبعد مما بين المشرق والمغرب.

  • ينبغي للإنسان أن لا يكثر الكلام.
  • يجب على الإنسان أن يحفظ لسانه في كل أحواله، كالغضب والرضا، وألا يتكلم فيما لا يعنيه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید