حدیث

میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

أنَّ عَائِذَ بن عَمْرو رضي الله عنه دَخَل على عُبَيد الله بن زياد، فقال: أي بُنَيَّ، إِنِّي سَمِعت رَسُول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الحُطَمَةُ» فَإِيَّاك أَن تَكُون مِنهُم، فقال له: اجْلِس فَإِنَّما أَنْت مِن نُخَالَةِ أَصحَاب محمَّد صلى الله عليه وسلم فقال: وهل كَانَت لَهُم نُخَالَة؟! إِنَّمَا كَانَت النُخَالَة بَعدَهُم وَفِي غَيرِهِم.

ترجمہ

عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا : میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ تو تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہوجاؤ۔ اس نے کہا : آپ بیٹھیے، آپ تو اصحاب محمد ﷺ کا تلچھٹ ہو، انھوں نے کہا: کیا اصحاب رسول ﷺ میں بھی تلچھٹ ہوتا ہے؟ بے شک تلچھٹ تو ان کے بعد یا ان کے علاوہ دوسروں میں ہوگا۔

تشریح

عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس آئے، اس وقت عبید اللہ عراق کا امیر تھا۔ وہ اپنے باپ کے بعد وہاں کا امیر بنا تھا۔ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو کہتے ہوئے سنا کہ بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ ”الحُطَمَة“ یعنی اونٹوں کو ہنکانے اور لانے لے جانے میں سختی کرنے والا، جو بعض کو بعض سے مڈ بھیڑ کرواتا ہے اور سختی برتتا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بُرے والی کے لیے بطور مثال بیان کیا ہے۔ اس سے مُراد بد خلق ہے، جو دوسروں پر ظلم کرتا ہے، نرمی اور رحم کا رویہ روا نہیں رکھتا۔ ”فَإِيَّاك أَن تَكُون مِنهُم“ یہ عائذ رضی اللہ عنہ کا جملہ ہے، جو انھوں نے ابنِ زیاد سے نصیحت کے طور پر کہا۔ ابنِ زیاد نے جواب میں کہا: آپ تو ان کا تلچھٹ ہو یعنی تم صاحب فضل، ذی علم اور اہلِ مرتبہ صحابہ میں سے نہیں ہو، بلکہ کم مرتبہ صحابہ میں سے ہو۔ ”النُّخَالَة“ آٹے کے بھوسے سے استعارہ ہے، جو اس کے چھلکے ہوتے ہیں، النخالة، الحقالة اور الحثالة ایک ہی معنیٰ میں آتے ہیں۔ جلیل القدر صحابی نے جواب میں کہا: ”وهل كَانَت لَهُم نُخَالَة؟ إِنَّمَا كَانَت النُخَالَة بَعدَهُم وَفِي غَيرِهِم“ یہ صحابی کا بڑا عمدہ، سلیس، فصیح اور سچا کلام ہے، جسے ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سارے کے سارے تمام لوگوں میں چنندہ، امت کے سردار اور بعد والوں سے افضل ہیں۔ سب کے سب عادل اور اسوہ ہیں۔ ان میں تلچھٹ ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ملاوٹ تو بعد والوں کی طرف سے یا خود بعد والوں میں ہے۔

تشریح: العربية

دخل عائذ بن عمرو رضي الله عنه على عبيد الله بن زياد وهو أمير العراقين بعد أبيه، فقال: "إني سمعت رسول الله يقول: إن شرّ الرعاءالحطمة"، والحُطَمَة: هو العنيف برعاية الإبل في السوق والإيراد والإصدار، ويلقي بعضها على بعض ويعسفها، ضَرَبَه مثلاً لوالي السوء، والمراد منه اللفظ القاسي الذي يظلمهم ولا يرق لهم ولا يرحمهم. وقوله: (فإياك أن تكون منهم) من كلام عائذ نصيحةً لابن زياد. فما كان من ابن زياد إلاَّ أن أجابه: (إنما أنت من نخالتهم)، يعني لست من فضلائهم وعلمائهم وأهل المراتب منهم بل من سَقَطِهم، والنخالة هنا استعارة من نخالة الدقيق، وهي قشوره، والنخالة والحقالة والحثالة بمعنى واحد، قوله. فردَّ عليه الصحابي الجليل رضي الله عنه : (وهل كانت لهم نخالة؟! إنما كانت النخالة بعدهم وفي غيرهم)، هذا من جزل الكلام وفصيحه وصدقه الذي ينقاد له كل مسلم؛ فإِنَّ الصحابة رضي الله عنهم كلهم هم صفوة الناس، وسادات الأمة، وأفضل ممن بعدهم، وكلهم عدول قدوة، لا نخالة فيهم، وإنما جاء التخليط ممن بعدهم وفيمن بعدهم.

  • استحباب نصح الرجل لأبنائه.
  • أمر الأمراء بالمعروف، ونهيهم عن المنكر برفق.
  • مشروعية نصيحة الأمراء.
  • التزام الصحابة -رضي الله عنهم- بالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
  • أنه لا يجوز للإنسان الذي ولاه الله -تعالى- على أمر من أمور المسلمين أن يكون عنيفًا عليهم؛ بل يكون رفيقًا بهم.
  • إصلاح الأمة وصلاحها يكون بِقَوْدِهَا إلى الطريق القويم باللين.
  • خير الناس للناس من كان هيِّناً ليِّناً.
  • وجوب الرفق بمن ولاه الله عليهم بحيث يرفق بهم في قضاء حوائجهم وغير ذلك، مع كونه يستعمل الحزم والقوة والنشاط، يعني لا يكون لينًا مع ضعف، ولكن لينًا بحزمٍ وقوةٍ ونشاطٍ.
  • جُرْأَة عائذ بن عمرو -رضي الله عنه- في الرد على عبيد الله بن زياد، وبيانه له أنَّ الصحابة كلهم سادة وأفاضل، ولم يعرف السقط والنخالة إلا بعد قرنهم.
  • فضل الصحابة -رضي الله عنهم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید