حدیث

جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أصْبَح ابن آدَم، فإن الأعضاء كلَّها تَكْفُرُ اللِّسان، تقول: اتَّقِ الله فِينَا، فإنَّما نحن بِك؛ فإن اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا، وإن اعْوَجَجْت اعْوَجَجْنَا».

ترجمہ

ابو سعيد خدري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: جسم کے تمام اعضاء زبان کے سامنے اظہار عجزو انکساری کرتے ہیں اور وہ اس کے تابع ہیں ۔ اسی لیے بندہ جب صبح کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ”ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو ہم تجھ سے متعلق ہیں“۔ انسان کے اعضاء میں سے سب سے خطرناک زبان ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہے تو اس کے تمام اعضاء ٹھیک رہتے ہیں اور اس کے باقی تمام اعمال درست ہو جاتے ہیں اور اگر اس میں کچھ کجی آجائے تو تمام اعضاء میں کجی آ جاتی ہے اور انسان کے بقیہ اعمال بھی فاسد ہوجاتے ہیں۔انس - رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندے کا ایمان اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کا دل ٹھیک نہ ہوجائے اور اس کا دل اس وقت ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان ٹھیک نہ ہو جائے“۔ اس موضوع پر بہت سی ایسی احادیث ہیں جو زبان کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں بایں طور کہ زبان یا تو اس شخص کے لیے باعثِ سعادت ہوتی ہے اور یا پھر اس کے لیے باعثِ مصیبت ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے اللہ کی اطاعت میں لگا دے تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت کی سعادت بن جاتی ہے اور اگر اسے ایسے کام میں لگا دے جس میں اللہ کی رضا نہ ہو تو وہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے باعثِ حسرت بن جائے گی۔

تشریح: العربية

معنى هذا الحديث: أن سائر أعضاء البدن تَذِلُّ وتخضع للسان، فهي تابعة له، ولهذا تقول إذا أصبح: "اتقِ الله فِينَا فإنَّما نحن بِك...". فاللسان أشد الجوارح خطراً على صاحبها، فإن استقام استقامت سائر جوارحه، وصلحت بقية أعماله، وإذا مال اللسان مَاَلت سائر جوارحه وفسد بقية أعماله. فعن أنس رضي الله عنه قال صلى الله عليه وسلم : "لا يستقيم إيمان عبد حتى يستقيم قلبه، ولا يستقيم قلبه حتى يستقيم لسانه.." وفي الباب أحاديث كثيرة تدل على خطر اللسان، وهو: إما سعادة لصاحبه، وإما نقمة عليه، فإن سَخَّره في طاعة الله كان سعادة له في الدنيا والآخرة، وإن أطلقه فيما لا يرضي الله تعالى ، كان حَسْرة عليه في الدنيا والآخرة.

  • أهمية حفظ اللسان في سلامة الإنسان، وذلك لأنه خليفة القلب وتُرْجُمانه، فما خطر في القلب ظهر في اللسان.
  • تأثر الأعضاء بخطأ العضو ووقوعه في المعصية.
  • ينبغي على العَبْد أن يُجنِّب نفسه موارد الهلكة ويَسلك سبيل النَّجَاة بتقوى الله في السِّرِ والعَلن.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید