ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: «اللَّهُمَّ لك أَسْلَمْتُ، وبِكَ آمَنتُ، وعَلَيكَ تَوَكَّلْت، وإِلَيكَ أَنَبْتُ، وبك خَاصَمْتُ، اللهم أعُوذ بِعزَّتك؛ لا إله إلا أنت أن تُضلَّني، أنت الحَيُّ الذي لا تموت، والجِنُّ والإنْسُ يَمُوتُونَ».
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (دعا کرتے ہوئے) فرمایا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ“ اے اللہ! میں تیرے لیے فرماں بردار ہو گیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے (کفر کے ساتھ) مخاصمت کی۔ اے اللہ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا (گمراہ کر) دے ۔تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔
تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے تھے: ”اللهم لك أسلمت“ (اے اللہ !میں تیرے لیے فرماں بردار ہو گیا) یعنی ظاہری طور پر تیرا فرماں بردار، تیرے علاوہ کسی اور کا نہیں۔”وبك آمنت“ (اورتجھ پرایمان لایا) یعنی باطنی طور پر تصدیق کی۔ ”وعليك توكلت“ (اورتجھ پر بھروسہ کیا) یعنی اپنے تمام امور کی تدبیر تیرے سپرد کر دی اور میں اپنے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔”وإليك أنبت“ (تیری طرف رجوع کیا) یعنی میں نے نافرمانی سے اطاعت کی طرف اور غفلت سے ذکر کی طرف رجوع کرلیا۔ ”وبك“ یعنی تیری مدد کے ساتھ۔ ”خاصمت“ (مخاصمت کی) یعنی تیرے دشمنوں سے جنگ کی۔ ”اللهم إني أعوذ بعزتك“ (اے اللہ میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں) یعنی تیرے غلبے کے ساتھ کیوں کہ عزت ساری کی ساری اللہ کے لیے ہے۔ ”لا إله إلا أنت“ (تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) یعنی تیرے علاوہ معبود برحق کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جس سے سوال کیا جائے اور تیرے علاوہ کسی کی پناہ بھی نہیں لی جا سکتی۔ ”أن تضلني“ (یہ کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا دے) یعنی میں اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ ہدایت کے بعد تو مجھے گمراہ کر دے جب کہ تو نے مجھے ظاہری و باطنی طور پر اپنے حکم و قضاء کی فرماں برداری اور اپنی جناب میں جھکنے، دشمن سے مخاصمت اور ہر حال میں اپنی عزت و نصرت کی التجاء کرنے کی توفیق بخشی۔ ”أنت الحي الذي لا يموت والجن والإنس يموتون“ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔
تشریح: العربية
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: (اللهم لك أسلمت) أي: انقيادا ظاهرا لا لغيرك، (وبك آمنت) أي: تصديقا باطنا، (وعليك توكلت) أي: أسلمت جميع أموري لتدبرها، فإني لا أملك نفعها ولا ضرها، (وإليك أنبت) أي: رجعت من المعصية إلى الطاعة أو من الغفلة إلى الذكر، (وبك) بإعانتك (خاصمت) أي: حاربت أعداءك، (اللهم إني أعوذ بعزتك) أي: بغلبتك فإن العزة لله جميعا. (لا إله إلا أنت) لا معبود بحق سواك ولا سؤال إلا منك ولا استعاذة إلا بك. (أن تضلني) أي: أعوذ من أن تضلني بعد إذ هديتني ووفقتني للانقياد الظاهر والباطن في حكمك وقضائك وللإنابة إلى جنابك والمخاصمة مع أعدائك والالتجاء في كل حال إلى عزتك ونصرتك، (أنت الحي الذي لا يموت والجن والإنس يموتون).
- وجوب التوكل على الله -تعالى- وحده وطلب الحفظ منه؛ لأنه متصف بصفات الكمال، فهو وحده الذي يعتمد عليه، والخلق كلهم عاجزون ومنتهون إلى الموت، فهم ليسوا أهلاً للاعتماد عليهم.
- كل ما سوى الله هالك، فلا يعتمد عليهم.
- التأسي بالنبي -صلى الله عليه وسلم- بهذه الكلمات الجامعة لمعاني الخير، التي تعبر عن صدق الإيمان وغاية اليقين.
- كمال الرجوع إلى الله تعالى والركون إليه في الأحوال كلها، والاعتصام بحبله، والتوكل عليه.
- الالتجاء إلى الله والاعتصام به، فمن اعتزَّ بغير الله ذلّ، ومن اهتدى بغير هدايته ضلّ، ومن اعتصم بالله -تعالى- وتوكَّل عليه عظُم وجلّ.
- إظهار النبي -صلى الله عليه وسلم- افتقاره لربه .
- فناء كل المخلوقات إلا ما شاء الله -تعالى-.
- الإشارة إلى الفرق بين الإسلام والإيمان.