حدیث

بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن العبد لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من رِضْوَانِ الله تعالى ما يُلْقِي لها بَالًا يَرْفَعُهُ الله بها درجاتٍ، وإن العبد لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله تعالى لا يُلْقِي لها بَالًا يَهْوِي بها في جهنم». وعن أبي عبد الرحمن بلال بن الحارث المزني رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الرجل لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من رِضْوَانِ الله تعالى ما كان يظن أن تبلغ ما بَلَغَتْ يكتب الله له بها رِضْوَانَهُ إلى يوم يَلْقَاهُ، وإن الرجل لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله ما كان يظن أن تبلغ ما بَلَغَتْ يكتب الله له بها سَخَطَهُ إلى يوم يَلْقَاهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے“۔ اور ابو عبد الرحمن بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی بات کرتا ہے، اس کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور آدمی (بعض دفعہ)اللہ کی ناراضی کا ایسا کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے“۔

تشریح

آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی والا کلمہ بو لتا ہےجیسے کہ پند و نصائح اورتعلیم، اور اسے گمان بھی نہیں ہو تا کہ یہ کلمہ اللہ کی رضامندی حاصل کرنے میں کہاں تک پہنچ جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کلمے کی وجہ سےاس شخص کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا کلمہ بولتا ہے جس سے اللہ ناراض ہوتا ہےجیسے غیبت چغلی، بہتان وغیرہ، پس اللہ تعالیٰ اس کلمے کی وجہ سےاس کو قیامت کے دن جہنم میں گرا دےگا۔

تشریح: العربية

إن العَبد ليتكلم بالكلمة مما يرضي الله تعالى ويحبه، كالنصح والإرشاد والتعليم، ولا يظن أن هذه الكلمة تبلغ به ما بَلَغَت من رضوان الله تعالى ، فيرفعه الله بها في الدرجات العلى. وكذلك يتكلم بكلمة من الكلمات التي تُسخط الله، كالغيبة والنميمة والبهتان؛ فيسقط بسببها في جهنم يوم القيامة.

  • الوَعد برفع الدرجات في الجنة على التَكَلُم بالخير، والوعيد بالهَوي في النار على التكلُم بالشَّر.
  • الكلام حسن وقبيح؛ فما كان في رضوان الله فهو حسن وما كان في سخطه فهو قبيح.
  • التحذير مما يضر بالمرء في دينه ودنياه والترغيب فيما ينفعه في دينه وديناه.
  • الجنة درجات والنار دركات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید