حدیث

آدمی کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیجا اور جتنا مال وہ چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أيُّكم مالُ وارثِه أحَبُّ إليه من مالَه؟» قالوا: يا رسول الله، ما منَّا أحد إلا مَالُه أحَبُّ إليه. قال: «فإن مالَه ما قدَّم، ومالُ وارثِه ما أخَّر».

ترجمہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کون ہے وہ شخص کہ جسے اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا تو کوئی بھی نہیں، ہر کسی کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے- آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیجا (جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا) اور جتنا مال وہ چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے۔

تشریح

نبی ﷺ اپنے صحابہ سے دریافت کر رہے ہیں کہ تم میں ایسا کون شخص ہوگا جسے اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ یعنی تم میں سے کون شخص ہے جسے اپنے بعد اپنے وارث کی ملکیت میں آنے والا مال اس مال سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی زندگی میں اس کی ملکیت ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہم میں سے ہر کسی کو اس کا اپنا مال ہی زیادہ محبوب ہے۔ یعنی ہر شخص اسی مال کو زیادہ محبوب رکھتا ہے جو اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جس پر اسے تصرف مطلق حاصل ہوتا ہے بنسبت کسی دوسرے کے مال کے ۔ کیونکہ جو مال اس کی ملکیت ہے وہ اس کی خواہشات و رغبات کے پورا ہونے کا ایک ذریعہ ہوتاہے۔ ”آدمی کا مال وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا“ اس سے مراد وہ مال جسے انسان اپنی زندگی میں اپنے اوپر صرف کرتاہے یا پھر نیک اعمال میں لگاتا ہے جیسا کہ حج یا وقف یا پھر کسی مدرسے ، مسجد اور ہسپتال کی تعمیر میں صرف کرتا ہے یا پھر خود اپنے آپ پر اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتاہے ۔ یہی اس کا حقیقی مال ہوتاہے جسے وہ روز قیامت اپنےسامنے پائے گا (یعنی اسے خرچ کرنے کا اجر اسے ملے گا) ۔ باقی رہا وہ مال جسے وہ اپنی زندگی میں جمع کر کرکے رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے وہ اس کے وارثوں کا مال ہوتا ہے جس میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس باب کے معنی میں وہ روایت بھی ہے جسے امام مسلم نے عبداللہ بن شِخیر رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ سورہ ’أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ‘ پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ نے اس وقت فرمایا ابن آدم میرا مال میرا مال کی رٹ لگاتا ہے، کہا ابن آدم تیرا مال اس کے سوا اور کیا ہے جسے تونے کھا پی کر ختم کردیا، یا پہن کر اسے بوسیدہ کردیا یا اسے صدقہ کرکے چلتا بنا۔ تاہم اس کا یہ معنی بھی نہیں ہے کہ انسان اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردے پھر وہ اور اس کے بچے لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے پھریں، بلکہ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ انسان جس طرح اپنے بعد اپنے وارثین کے لیے مال ودولت جمع کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے اسی طرح اپنے ذاتی اخراجات، نیز اپنے اہل و عیال جیسے بیوی بچے اور والدین کے صرفے سے جو رقم زائد ہو اُس سے اپنی آخرت کے لیے بھی زادِ راہ جمع کرنے کی کوشش کرے، اس لیے اُن پر خرچ کرنا واجب ہے اگر اُن پر خرچ نہیں کرے گا تو انسان گناہ گار ہوگا، اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کی روایت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”اے ابن آدم! اگر تو اپنے مال کو خرچ کرتا ہے تو یہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر اُسے روکے رکھتا ہے تو تیرے حق میں بُرا ہے“۔

تشریح: العربية

يسأل النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه قائلا: "أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله" يعني: أي واحد منكم يحب أن يكون مال وارثه الذي يتملكه من بعده أكثر مما يحب ماله الذي يملكه في حياته قالوا: "ما منا أحد إلا ماله أحب إليه" أي : ليس هناك إنسان إلا ويجد نفسه يحب ماله الذي بيده وله التصرف المطلق به أكثر مما يحب مال غيره؛ لأن ما يملكه هو الوسيلة إلى تحقيق رغَبَاتِه، وتَطَلُعَاتِه. قال: "فإن مَالَه ما قدم " أي : أن المال الذي يصرفه المرء في حياته على نفسه، وصالح أعماله من حج، ووقف، وبناء مدرسة، وعمارة مسجد، ومستشفى، أو ينفقه على نفسه وعياله، هو ماله الحقيقي؛ الذي يجده أمامه يوم القيامة. وأما ما يَدّخِره في حال حياته ويَبْخَل عن الإنفاق في سبيل الله تعالى ، فهو مال وراثه، ليس له فيه شيء. وفي معنى حديث الباب: ما رواه مسلم عن عبد الله بن الشخير رضي الله عنه قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقرأ: ألهاكم التكاثر، قال: (يقول ابن آدم: مالي، مالي، قال: وهل لك، يا ابن آدم من مالك إلا ما أكلت فأفنيت، أو لبست فأبليت، أو تصدقت فأمضيت) وليس معنى هذا: أن الإنسان ينفق مالَه كله في سبيل الله ويبقى هو وأهله يَتَكَفَفُوَنَ الناس، بل المقصود من الحديث: أن الإنسان كما أنه يسعى ليدخر للورثة من بعده كذلك عليه بالسعي في الادخار لآخرته، بما فضل على نفقته ونفقة من يمونه من زوجة وأولاد ووالدين؛ لأن هذا من النفقة الواجبة التي لا بد منها وإلا كان آثمًا، ويدل لذلك ما رواه أبو أمامة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا ابن آدم إنك أَن تَبْذُلَ الفَضَل خيرٌ لك، وأن تمسكه شر لك".

  • حرص الإسلام على تصحيح المفاهيم والمبادئ السائدة.
  • الحث على بذل ما يمكن تقديمه من المال في وجوه الخير لينتفع به في الآخرة.
  • كل ما تركه المُوَرِّث فإنه يصير ملكاً للوارث بعد قضاء ديونه وإنفاذ وصيته بمقدار الثث فأقل.
  • فيه الإشارة إلى أن النفوس جُبِلَت وفُطِرَت على حُبِّ المال.
  • تقريب الأحكام الشرعية عن طريق السؤال؛ لتكون أدعى للقبول.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید