ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها أن رجلًا استأذن على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «ائْذَنُوا له، بئس أخو العَشِيرَةِ؟».
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آنے کی اجازت دے دو۔ یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے۔“
تشریح
ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے دو، یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے، یا آپ ﷺ نے ”أخو العشيرة“ کی بجائے ”ابْن العشيرة“ فرمایا۔ جب وہ آ بیٹھا تو آپ ﷺ اس کے ساتھ بہت خندہ روئی اور خوش مزاجی سے پیش آئے۔ اس آدمی کے چلے جانے کے بعد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ نے اس آدمی کو دیکھا تھا تو آپ نے ایسے کہا تھا جب کہ بعد ازاں آپ اس سے بہت خندہ روئی اور خوش مزاجی سے پیش آئے ہیں، (اس کی کیا وجہ ہے؟)۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تم نے مجھے بد گو کب پایا ہے؟ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برا شخص وہ ہو گا جس سے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لئے کنارہ کشی کرلیں۔ یہ شخص فسادی اور فتنہ انگیز لوگوں میں سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر اس انداز میں کیا جس کا وہ حق دار تھا اور فرمایا کہ وہ اپنے قبیلہ کا بدترین شخص ہے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو اس کی فتنہ انگیزی پر متنبہ کرنے کے لئے یہ فرمایا تا کہ وہ اس سے دھوکہ نہ کھا بیٹھیں۔ چنانچہ جب آپ بھی کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو برا اور گمراہ ہو لیکن اس نے اپنی فصاحت کی بدولت لوگوں کو مسحور کر رکھا ہو تواس صورت میں آپ کے لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ شخص برا ہے تاکہ لوگ اس سے دھوکہ نہ کھا لیں۔ کتنے ہی ایسے چرب زبان اور فصیح الکلام لوگ ہوتے ہیں جن کا ڈیل ڈول آپ کو بہت بھاتا ہے اور جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو اسے آپ بغور سنتے ہیں لیکن ان میں خیر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایسے شخص کی حقیقتِ حال کو بیان کرنا واجب ہے۔ باقی رہا آپ ﷺ کا اس شخص کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنا تو یہ مدارات (دل رکھنے) کے قبیل سے تھا۔ اہل علم کےنزدیک دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں مدارات ضروری ہے بخلاف مداہنت کے۔ اس سے مراد وہ مداہنت ہے جس کی وجہ سے کسی واجب سے دستبردار ہونا پڑے یا پھر کسی ممنوعہ کام سے چشم پوشی ہو یا کسی حرام کا ارتکاب ہو۔ ایسا کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ﴾ [سورة القلم: 9] ”وہ تو چاہتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں“۔ جب کہ مدارات اور لوگوں کے ساتھ اس انداز میں برتاؤ کرنا جس سے مصلحت کا حصول ہو اور اس سے کوئی برائی بھی مرتب نہ ہوتی ہو تو یہ ایک مشروع عمل ہے۔
تشریح: العربية
استأذن رجل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "ائذنوا له، بِئْس أخو العشيرة، أو ابْن العشيرة"، فلما جلس تَطلَّق النبي صلى الله عليه وسلم في وجهه وانْبَسط إليه، فلما انطلق الرجل قالت له عائشة: يا رسول الله، حين رأيت الرجل قلت له كذا وكذا، ثم تَطَلَّقْتَ في وجهه وانْبَسطت إليه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا عائشة، متى عَهِدْتِنِي فَحَّاشًا، إن شَرَّ الناس عند الله منزلة يوم القيامة من تركه الناس اتقاء شره" فهذا الرجل من أهل الفساد والشر ولهذا ذكره صلى الله عليه وسلم في غيبته بما يستحقه فقال بئس ابن قبيلته هو من أجل أن يحذر الناس فساده، حتى لا يغتروا به، فإذا رأيت شخصًا ذا فساد وغَيٍّ لكنه قد سَحَر الناس بفصاحته، فإنه يجب عليك أن تبين أن هذا الرجل فاسد؛ لأجل ألا يَغْتَّر الناس به، كمْ من إنسان طَليق اللسان فصيح البيان إذا رأيته يعجبك جسمه وإن يقل تسمع لقوله، ولكنه لا خير فيه، فالواجب بيان حاله. وأما عن ملاطفته صلى الله عليه وسلم للرجل فذلك من باب المُدارة وأهل العلم يقررون أن المُداراة مطلوبة، يعني في التعامل مع الآخرين، بخلاف المُدَاهنة، المُدَاهنة التي يترتب عليها تنازل عن واجب، أو ارتكاب محظور، هذا لا يجوز بحال، لقوله تعالى : (وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ) [سورة القلم: 9]، أما المُداراة والتعامل مع الناس بما يحقق المصلحة ولا يترتب عليه أدنى مفسدة، فإن هذا أمر شرعي.
- جواز غِيْبَة أهل الفساد وأهل الرِّيب؛ تحذيرًا من الاغترار بظواهرهم.
- قول النبي -صلى الله عليه وسلم- في أمته بالأمور التي يسميهم بها، ويضيفها إليهم من الأمور المكروهة، ليست من الغيبة.
- من عَلم فُشْحًا في غيره ورأى أن ثالثا سيَغْتَر بهذا الفاحش، فعليه أن ينصحه ويعظه، ويحذره منه.