حدیث

جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، اور میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جاکر ثنیۃ الوداع پر ملا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن السَّائب بن يزيد رضي الله عنه قال: لما قَدِم النبي صلى الله عليه وسلم من غَزْوة تَبُوك تَلَقَّاهُ الناس، فَتَلَقَّيتُه مع الصِّبْيَان على ثَنيَّةِ الوَدَاع. ورواية البخاري قال: ذَهَبْنا نَتَلَقَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع الصِّبْيَان إلى ثَنيَّةِ الوَدَاع.

ترجمہ

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ غزوۂ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا۔ بخاری کی روایت میں اس طرح کے الفاظ ہیں: ”ہم سب بچے ثنیۃ الوداع تک آپ ﷺ کا استقبال کرنے گئے تھے“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو جو معذورین وغیرہ میں سے جو لوگ غزوے سے پیچھے رہ گیے تھے وہ آپ سے ملاقات کے لیے ثنية الوداع کی طرف نکلے، یہ آپ ﷺ کی واپسی پر آپ کے استقبال کے لیے نکلے۔ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بھی مدینہ کے بچوں کے ساتھ آپ ﷺ سے ملنے نکلے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: يخبر السَّائب بن يزيد رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم عندما قدم من غزوة تبوك خرج الناس -ممن كان قد تخلف عن الغزو من المعذورين وغيرهم- إلى ثنية الوداع وذلك لاستقباله صلى الله عليه وسلم حين عودته. وخرج السَّائب بن يزيد مع صِبيان المدينة لتلقي النبي صلى الله عليه وسلم .

  • مشروعية استقبال القادمين من حَرب أو سَفر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید