حدیث

امابعد، اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں۔جب کہ جسے میں چھوڑ دیتا ہوں، وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہوتاہے، جسے میں دیتا ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عَمْرُو بن تَغْلِبَ ـ رضي الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بمالٍ أو سَبْيٍ فَقَسَّمه، فأعطى رجالا، وترك رجالًا، فبَلغَه أن الَّذِين تَرَك عَتَبُوا، فحمد الله، ثم أثنى عليه، ثم قال: «أما بعد، فوالله إني لأُعطي الرجل وأدَعُ الرجلَ، والذي أدعُ أحبُّ إلي من الذي أُعطي، ولكني إنما أُعطي أقوامًا لما أرى في قلوبهم من الجَزَع والهَلَع، وَأَكِلُ أقواما إلى ما جَعَلَ الله في قُلُوبِهم من الغِنَى والخَيْر، منهم عَمْرُو بن تَغْلِبَ» قال عمرو بن تغلب: فوالله ما أُحبُّ أن لي بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حُمْرَ النَّعَم.

ترجمہ

عمر بن تغلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‎ﷺ کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے، جسے آپ نے تقسیم کردیا۔ کچھ لوگوں کو آپ نے ان میں سے دیا اور کچھ کو نہیں دیا ۔ پھرآپ ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺ نے جن کو نہیں دیا، انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اما بعد، اللہ کی قسم ! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں۔ جب کہ جسے میں چھوڑ دیتا ہوں وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہوتاہے، جسے میں دیتا ہوں ۔میں کچھ لوگوں کے دلوں میں جو بے صبری پاتا ہوں، اس کی وجہ سے انہیں دیتاہوں اور کچھ لوگوں کو اس بے نیازی اور بھلائی کے سپرد کردیتا ہوں، جو اللہ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے۔ عمرو بن تَغلِب انہی لوگوں میں سے ہیں۔ عمرو بن تَغلِب کہتے ہیں کہ : اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔

تشریح

عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے۔ "سبی" سے مراد دشمن کے وہ قیدی ہیں، جنہیں جنگ میں گرفتار کرکے غلام باندی بنا لیا جاتاہے۔ آپ ﷺ نے انہیں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا؛ یعنی کچھ لوگوں کو ان کی تالیف قلب کے لیے دیا اور کچھ لوگوں کو اللہ تعالی نے جو قوت ایمانی اور یقین عطا کیا تھا، اس پر اعتماد کرتے ہوئے دیے بغیر ہی چھوڑ دیا۔ پھرآپ ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ جن کو آپ ﷺ نے نہیں دیا تھا، انھوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یعنی انھوں نے آپس میں آپ ﷺ کے اس عمل پرکچھ ناگواری کے انداز میں باتیں کیں، یہ گمان کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ان کے کسی خاص دینی امتیاز کی وجہ سے دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے انھیں جمع کرکے خطبہ دیا۔ اللہ تعالی کے شایان شان حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کودیے بغیرہی چھوڑ دیتاہوں۔ جسے میں دیے بغیر چھوڑ دیتا ہوں، وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہے، جسے میں دیتاہوں“۔ یہ مراد نہیں کہ جب بعض لوگوں کو دوں اور بعض کو نہ دوں، تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ میں دوسروں کے مقابلے میں، ان سے محبت کرتا ہوں۔ بلکہ جن کو میں دیے بغیر چھوڑ دیتاہوں، وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جنھیں میں دیتا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے بعض کودینے اور بعض کو نہ دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں بعض لوگوں کو ان کے دلوں میں پائی جانے والی بےصبری اور پریشانی کی وجہ سے دیتا ہوں، جو انہیں اس وقت لاحق ہوتی ہے، جب انھیں مال غنیمت میں سے حصہ نہ دیا جائے۔ چنانچہ میں ان کی تالیف قلب اور انھیں خوش کرنے کے لیے دیتا ہوں۔ ”بعض لوگوں کو میں اس بے نیازی کے حوالے کردیتا ہوں، جو اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رکھی ہے“ یعنی کچھ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالی نے جو قناعت اور بے نیازی رکھی ہے، انھیں اس کے سپرد کرتے ہوئے نہیں دیتا۔ ”بھلائی“ سے مراد قوت ایمان و یقین ہے۔ ”عمرو بن تغلب انہیں لوگوں میں سے ہیں“ یعنی وہ لوگ جن کے ایمان پر تکیہ کرتے ہوئے میں انھیں نہیں دیتا، ان میں سے ایک عمرو بن تغلب ہیں۔ ایک اور حدیث میں آتاہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی شخص کو دیتا ہوں، جب کے دوسرا شخص مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتاہے۔ ایسا میں اس اندیشے کی وجہ سے کرتا ہوں کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جائے“۔ (صحیح مسلم) عمرو رضی اللہ نے جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی تعریف کرتے ہوئے سنا تو کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کی بجائے مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔ یعنی اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس ثنا کی بدولت میری جو تکریم کی، اس کا کوئی بدیل مجھے پسند نہیں ہے، چاہے مجھے عرب کا سب سے نفیس مال، سرخ اونٹ ہی کیوں نہ دیے جا‏ئیں۔

تشریح: العربية

يحدثنا عَمْرُو بن تَغْلِبَ رضي الله عنه: "أن النبي صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بمال أو بسَبْيٍ" وهو ما يُؤخذ من العدو في الحرب من الأسرى عبيدا أو إماء "فقسمه، فأعطى رجالًا، وترك رجالًا" أي: أعطى بعض الناس تأليفا لقلوبهم، وترك البعض الآخر ثقة بهم، لما مَنَحَهُم الله من قوة الإيمان واليقين، " فبَلغه أن الذين ترك عَتَبُوا " أي: لامُوا عليه فيما بينهم ، ظنًا منهم ـرضي الله عنهم- أنه صلى الله عليه وسلم : إنما أعطى أولئك لمزِية في دينهم. فجمعهم النبي صلى الله عليه وسلم وقام فيهم خطيبا، فحمد الله ثم أثنى عليه بما هو أهله ، ثم قال: أما بعد ، فوالله إني لأعطي الرجل وأدع الرجل، والذي أدعْ أحب إلي من الذي أعطي " أي: ليس المعنى: أنني إذا أعطيت بعضهم ولم أعط الآخر دليل على محبتي لهم دون الآخرين، بل إن الذين أدعهم ولا أعطيهم هُم أحبُّ إلي ممن أعطيهم. ثم بَيَّنَ لهم سبب إعطاء بعضهم دون بعض فقال: " ولكني إنما أعطي أقواما لما أرى في قلوبهم من الجَزَعِ والهَلَع " أي: من شدة الألم والضَّجَر الذي يُصيب نفوسهم لو لم يعطوا من الغنيمة، فأعطيهم تأليفا لقلوبهم، وتطييبا لنفوسهم. "وأَكِلُ أقواما إلى ما جعل الله في قلوبهم من الغِنى" أي: وأترك أقواما فلا أعطيهم لأني أكِلهم إلى ما وضع الله في قلوبهم من القناعة وغنى النفس، "والخير" أي وقوة الإيمان واليقين "منهم عمرو بن تغلب" أي: من الناس الَّذين أمنع عنهم العطاء اتكالا على ما عندهم من الإيمان "عَمْرُو بن تَغْلِبَ". وفي الحديث الآخر: "إني لأعطي الرجل وغيره أحب إليَّ منه، خَشية أن يكب في النار على وجهه" رواه مسلم قال عَمْرُو ـرضي الله عنه- عندما سمع النبي صلى الله عليه وسلم يثني عليه: "فوالله ما أحب أن لي بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حُمْر النَّعَم" أي: أقسم بالله لا أرضى بهذا الثناء الذي كرمني به النبي صلى الله عليه وسلم بديلا ولو أعطيت أنفس أموال العرب التي هي الجمال الحُمر.

  • السنة في الخُطبة البدء بالحمد والثناء على الله بما هو أهله.
  • المال والمتاع ليس مقياس كرامة الإنسان ومكانته.
  • حكمة رسول الله صلى الله عليه وسلم في تأليف القلوب وإنقاذها من الهلاك.
  • تصرف الإمام في المال والعطاء حسب المصلحة العامة.
  • الحث على الرضا بما يأتي المسلم من رزق دون سؤال أو إلحاح.
  • سرور المؤمن وفرحه بما يبدو منه من خير.
  • فضيلة عَمَرِو بن تَغْلِبْ رضي الله عنه.
  • جواز الحلف من غير استحلاف.
  • تأليف القلوب بالمال .

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید