حدیث

دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی؛ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہِ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعاً: «عَيْنَانِ لاَ تَمسُّهُمَا النَّار: عَيْنٌ بَكَتْ من خَشْيَة الله، وعَيْنٌ بَاتَت تَحْرُسُ في سَبِيل الله».

ترجمہ

ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی؛ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہِ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو“۔

تشریح

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کی آگ اس آنکھ کو نہیں چُھوتی جو اللہ کے خوف سے روتی ہے، یعنی جب انسان اللہ کی عظمت اور بندوں پر اس کی قدرت کو یاد کرتا ہے اور اپنی حالت اور اللہ تعالیٰ کے حق میں اپنی کوتاہی دیکھتا ہے، تو اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور اس کے عذاب اور ناراضگی سے ڈرتے ہوئے روتا ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ آنکھ جہنم کی آگ سے نجات پائے گی۔ دوسری آنکھ جسے جہنم کی آگ نہیں چُھوئے گی وہ ہے جو اللہ کے راستے میں سرحدوں پر اور لڑائی کے موقعوں پر اہل اسلام کی حفاظت پر مامور ہو کر پہرہ دیتی ہے۔ ”لا تمسهما النار“ یہ جملہ جُزْ بول کر کُلْ مُراد لینے کی قبیل سے ہے۔ اس سے مُراد یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے روتا ہے اور اللہ کے راستے میں پہرہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے جسموں پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: أن النَّار لا تَمَسُّ عينًا بَكَتْ خوفاً من الله تعالى، فعندما يتذكر الإنسان عظمة الله وقدرته على عباده ويتذكر حاله وتقصيره في حق الله تعالى؛ فيبكي رجاء رحمته وخوفاً من عِقَابه وسَخَطه، فهذا موعود بالنجاة من النار. وعين أخرى لا تمسها النار، وهي: من بَاتت تَحرس في سبيل الله تعالى في الثغور ومواضع الاقتتال حفاظاً على أرواح المسلمين. وقوله: "لا تمسهما النار" هذا من إطلاق لفظ الجزء وإرادة الكل، والمراد: أن من بَكَى من خَشية الله تعالى ومن بات يَحرس في سبيل الله، فإن الله تعالى يُحَرِّم جَسَدَهما على النَّار.

  • فضل البكاء من خشية الله والحراسة في سبيل الله لما فيهما من صدق الإيمان وكمال المراقبة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید