حدیث

ہم نبی ﷺ كے لیے آپ کے حصے كا دودھ اٹھاکر رکھ دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ رات کو تشریف لاتے اور اس طرح سلام کرتے کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور بیدار کو سنا دیتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن المِقْدَادُ رضي الله عنه في حديثه الطويل: كنا نَرَفَعُ للنبي صلى الله عليه وسلم نَصِيبَهُ من اللَّبَنِ ، فَيَجِيءُ من الليل، فَيُسَلِّمُ تسليما لا يُوقِظُ نائما، ويُسْمِعُ اليَقْظَانَ، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ كما كان يُسَلِّمُ.

ترجمہ

ہم نبی ﷺ كے لیے آپ کے حصے كا دودھ اٹھاکر رکھ دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ رات کو تشریف لاتے اور اس انداز میں سلام کرتے کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور بیدار کو سنا دیتے۔ چنانچہ نبی ﷺ تشریف لائے اور اسی انداز میں سلام کیا جس طرح آپ کیا کرتے تھے۔

تشریح

مقداد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم جب بکری کا دودھ نکال کر اپنے حصے کا دودھ پی چکتے تو رسول اللہ ﷺ کا حصہ آپ کے لیے اٹھاکر رکھ دیتے یہاں تک کہ آپ ﷺ اسے پینے کے لئے تشریف لاتے۔ رسول اللہ ﷺ جب رات کو ان کے پاس آتے اور وہ سوئے ہوئے ہوتے تو آپ ﷺ ڈرمیانی آواز میں جو کم سے کم بلند اور اس سے کچھ زیادہ اونچی آواز میں ان کو سلام کرتے، اس طرح کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے، لیکن ساتھ ہی ان میں سے بیدار کو سنا دیتے تھے۔

تشریح: العربية

كان المقداد ومن معه رضي الله عنهم بعد أن يحلبوا الشاة ويشربوا نصيبهم من اللَّبن يرفعون نصيبه صلى الله عليه وسلم ، حتى يأتي ليشربه، فكان صلى الله عليه وسلم إذا جاءهم من الليل وهم نيام سلَّم عليهم تسليمًا بصوت متوسط بين أقل الجهر وما فوقه، بحيث لا يوقظ نائما، وفي نفس الوقت يسمع اليقظان منهم.

  • مشروعية السلام على قوم فيهم نيام، ولكن السنة ألا يرفع صوته بحيث يسمع اليقظان ولا يوقظ النائم.
  • مشروعية حفظ الطعام للغائب.
  • جواز الدخول على الأهل ليلًا إذا لم يكن في سفر.
  • بيان الشدة والضيق الذي كان يعيشه النبي -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه.
  • بيان لعظيم خلق رسول -صلى الله عليه وسلم- وتعليمه آداب التسليم.
  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم- لأصحابه، فإنه كان يخالط الصغير والكبير لا كما هو حال كثير من عظماء اليوم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید