حدیث

رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ من الشهر حتى نظن أن لا يصوم منه، ويصوم حتى نظن أن لا يُفْطِرَ منه شيئا، وكان لا تَشَاءُ أن تراه من الليل مُصَلِيًا إلا رأيتَه، ولا نائما إلا رأيتَه.

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: انس رضی اللہ عنہ صیام و قیام کے سلسلے میں نبی ﷺ کا حال بیان کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے، تو یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں، کیوںکہ اس میں زیاد تر بنا روزہ ہی رہتے اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں کسی روزے کو بھی نہیں چھوڑیں گے؛ کیوںکہ آپ ﷺ اس میں بہت زیادہ روزے رکھتے۔ اسی طرح آپ ﷺ رات کی نماز کسی مخصوص وقت میں نہیں پڑھتے تھے، بلکہ کبھی تو اسے رات کے شروع میں پڑھ لیتے ، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں، بایں طور کہ اگر آپ رات کو نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو سوتے ہوئے بھی دیکھ لیتے۔ آپ ﷺ کا عمل افراط و تفریط کے مابین میانہ روی پر مبنی ہوتا تھا۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: يخبر أنس رضي الله عنه عن حال النبي صلى الله عليه وسلم في صيامه وقيامه، فيخبر أنه كان يُفْطِرُ من الشهر حتى يظن المرء أنه لا يصوم منه شيئا؛ لكثرة فطره فيه، ويصوم حتى يُظن أنه لا يُفْطِر منه شيئًا؛ لكثرة صيامه فيه، و كذلك كان عليه -الصلاة والسلام- لا يَتَقَيَد بوقت معين في صلاة القيام، بل يصلي تارة في أول الليل، وتارة في وسطه، وتارة في آخره، بحيث لا تُحب أن تراه من الليل مصليًا إلا رأيته، ولا نائمًا إلا رأيته، فكان عَمَله التَوَسط بين الإفْرَاطِ والتفريط.

  • صوم النفل المطلق لا يختص بزمان إلا ما نهي عنه.
  • الحث على الإكثار من العبادة وخاصة صيام النفل والتهجد مع التَوسط في ذلك، بحيث لا يضيع الحقوق أو يُقَصِّر في الواجبات.
  • لم يَصم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الدَّهر، ولا قام الليل كله.
  • من كُلِّ الليل قام رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ومن كل الشهر صام رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید