حدیث

تم میں سے کوئی شخص اپنی رسیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لے آئے اور انھیں بیچ دے اور اس سے اللہ اسے مانگنے سے بچا لے، تو یہ اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، چاہے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن الزبير بن العَوَّام رضي الله عنه مرفوعاً: «لأَن يأخذ أحدكم أُحبُلَهُ ثم يأتي الجبل، فيأتي بِحُزْمَة من حطب على ظهره فيبيعها، فَيَكُفَّ الله بها وجهه، خيرٌ له من أن يسأل الناس، أعْطَوه أو مَنَعُوه».

ترجمہ

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنی رسیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لے آئے اور انھیں بیچ دے اور اس سے اللہ اسے مانگنے سے بچا لے، تو یہ اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے کہ لوگ چاہیں تو دیں یا نہ دیں“۔

تشریح

آدمی اپنے ہاتھ سے کمائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، وہ چاہیں تو دیں اور چاہیں تو نہ دیں۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی لے کر چراگاہوں، کھیتوں اور جنگلوں کی طرف نکل جاتا ہے اور لکڑیاں اکٹھی کر کے اور انھیں اپنی پیٹھ پر لاد کر لاتا ہے، پھر انھیں بیچتا ہے اور اس طرح سے اپنی عزت و شرافت کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے آپ کو مانگنے کی ذلت سے بچاتا ہے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے، چاہے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔ لوگوں سے مانگنا ذلت ہے جب کہ مؤمن صاحب عزت ہوتا ہے، ذلیل نہیں۔

تشریح: العربية

أن اكتساب المرء من عمل يده خير له من أن يسأل الناس أموالهم: أعطوه أو مَنَعُوه، فالذي يأخذ حَبَلَه ويخرج إلى المراعي والمزارع، والغابات، فيجمع الحطب ويحمله على ظهره ويبيعه؛ فيحفظ بذلك على نفسه كرامتها وعزتها؛ ويقي وجهه ذلة المسألة، خيرٌ له من أن يسأل الناس أعطوه أو مَنَعُوه؛ فسؤال الناس مذلة، والمؤمن عزيز غير ذليل.

  • الحَضُّ على التعفف عن المسألة والتنزه عنها.
  • الحث على العمل لتحصيل الرزق، ولو امتهن المُكَلَّفُ حِرَفَة بسيطة وحقيرة في نظر الناس.
  • إجهاد النفس في تحصيل الرزق الحلال.
  • لا تحل المسألة مع القُدْرة على العمل وكسب الرزق.
  • الأخذ بالأسباب والشروع في العمل لا ينافي التوكل على الله.
  • بيان لما يدخل على السائل من ذل السؤال وهو ذل الرد إذا لم يعط.
  • لا ينبغي احتقار العمل والاستحياء منه ولو كان يسيرًا صغيرًا لا قيمة له في نظر الناس.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید