حدیث

جوایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے شب قدر میں قیام کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جوایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے شب قدر میں قیام کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ یہاں شب قدر کی فضیلت بیان کر رہے ہيں، جو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس رات کی فضیلت یہ ہے کہ جس نے اس رات کی فضیلت پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے کی نیت سے اس میں جاگ کر نماز پڑھی، دعا کی، قرآن کی تلاوت کی، ذکر و اذکار میں مشغول رہا اور اپنے عمل کو ریاکاری اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک رکھا، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

فوائد

  • شب قدر کی فضیلت اور اس میں قیام کی ترغیب۔
  • نیک اعمال اسی وقت قبولیت سے سرفراز ہوتے ہيں، جب انہیں نیک نیتی کے ساتھ انجام دیا جائے۔
  • اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہی ہے کہ ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرنے والے کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
تشریح: العربية

يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن فضل قيام ليلة القدر التي تكون في العشر الأواخر من رمضان، وأنَّ مَن اجتهد فيها بالصلاة والدعاء وقراءة القرآن والذكر، مؤمنًا بها وبما جاء في فضلها، راجيًا بعمله ثوابَ الله تعالى، لا رياء ولا سُمعة، فإنه يُغفر له ما سَبَقَ مِن ذنوبِه.

  • فضل ليلة القَدْر والحَث على قيامها.
  • الأعمال الصالحة لا تُقبل إلا مع صِدْقِ النيَّات.
  • فضل الله ورحمته، فإنّ مَن قام ليلة القدر إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدم من ذنبه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید