حدیث

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آں کہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِسْلاَمِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ».

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آں کہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جو لوگ یہ کرلیں گے وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اس حق کے جو اسلام کی وجہ سے واجب ہوگا، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کو مشرکوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں اور گواہی کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے دن اور رات میں فرض پانچ وقت کی نمازیں ادا نہ کرنے لگيں اور حق داروں کو فرض زکاۃ نہ دینے لگیں۔ جب وہ اتنا کر لیں گے، تو اللہ ان کی جان اور ان کے مال کو تحفظ فراہم کر دے گا اور ان کا قتل حلال نہیں رہ جائے گا۔ ہاں، اگر وہ ایسا جرم کر بیٹھیں کہ اس کی بنا پر اسلامی احکام کی رو سے قتل کے حق دار ٹھہر جائيں تو الگ بات ہے۔ پھر اللہ قیامت کے دن ان کا حساب لے گا، جو ان کے دلوں کی بات جانتا ہے۔

فوائد

  • احکام ظاہر کی بنیاد پر صادر ہوتے ہیں اور باطن کا حساب اللہ لے گا۔
  • توحید کی دعوت کی اہمیت۔ دعوت کا آغاز اسی سے کیا جائے گا۔
  • اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشرکوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ دراصل ان کے سامنے دو راستے ہوا کرتے ہیں۔ یا تو اسلام قبول کر لیں یا پھر جزیہ ادا کریں۔ اگر دونوں منظور نہ ہوں، تو احکام اسلام کی رو سے جنگ کی راہ ہی بچ جاتی ہے۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ اللهَ أمرَه بمقاتلة المشركين حتى يشهدوا بأن لا معبود بحق إلا الله وحده لا شريك له، ويشهدوا لمحمد صلى الله عليه وسلم بالرسالة، والعمل بمقتضى هذه الشهادة من المحافظة على الصلوات الخمس في اليوم والليلة، ويعطوا الزكاة المفروضة لمستحقيها. فإذا فعلوا هذه الأمورَ فإنَّ الإسلام يَعْصِمُ دماءَهم وأموالَهم، فلا يَحِلُّ قتلُهم إلا إذا ارتكبوا جريمة أو جناية يستحقون عليها القتل بموجب أحكام الإسلام، ثم يوم القيامة يتولى الله تعالى حسابَهم حيث يعلم سرائرَهم.

  • الأحكام إنما تَجْرِي على الظواهر، والله يتولَّى السرائر.
  • أهمية الدعوة إلى التوحيد وأنه أول ما يُبدأ به في الدعوة.
  • لا يعني هذا الحديث إكراه المشركين على الدخول في الإسلام، بل هم مُخَيَّرون بين الدخول في الإسلام أو دفع الجزية؛ فإنْ أبوا إلا مَنع الدعوة إلى الإسلام، فليس إلا المقاتلة بموجب أحكام الإسلام.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید