حدیث

نبی ﷺ نے ان سے ایک اونٹ خریدا اور ان کے لیے (بطورِ قیمت) جب (چاندی کو) وزن کیا تو کچھ بڑھا کر وزن کیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى منه بَعِيراً، فَوَزَنَ له فَأرْجَح.

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ایک اونٹ خریدا اور ان کے لیے (بطور قیمت) جب (چاندی کو) وزن کیا تو کچھ بڑھا کر وزن کیا۔

تشریح

اس حدیث کے پس منظر میں ایک پورا قصہ ہے جو یہاں مختصرا بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے ایک اونٹ خریدا یعنی نبی ﷺ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اونٹ خریدا۔ ”فَوَزَنَ لَه“ یعنی نبی ﷺ نے انہیں اونٹ کی قیمت وزن کر کے دی۔ ایسا مجازاً کہا گیا ہے کیونکہ اس حدیث میں درحقیقت وزن کرنے والے (خود رسول اللہ ﷺ نہیں تھے بلکہ) نبی ﷺ کے حکم سے بلال رضی اللہ عنہ تھے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ مجھے ایک اوقیہ چاندی تول کر دیں۔ حضرت بلال نے میرے لیے اسے تولا اور پلڑے کو کچھ بھاری رکھا یعنی وزن اس مقدار سے زیادہ رکھا جس کے جابر رضی اللہ عنہ اونٹ کی قیمت کے طور پر مستحق تھے۔پچھلے زمانے میں لوگ تول کر رقم دیا کرتے تھے نہ کہ گن کر۔ اگرچہ بعض اوقات گن کر بھی لین دین ہوتا تاہم اکثر تول کر ہی ہوتا تھا۔

تشریح: العربية

هذا الحديث له قصة، وهي هنا مختصرة، "أن النبي صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى منه بَعِيراً" أي: أن النبي صلى الله عليه وسلم اشترى من جابر رضي الله عنه بعيراً. "فَوَزَنَ له" أي: أن النبي صلى الله عليه وسلم وَزَن له ثَمن البعير، وهذا من باب التجوز، وإلا فإن حقيقة الوزَّان في هذا الحديث: بلال رضي الله عنه بأمر النبي صلى الله عليه وسلم كما هو في أصل الحديث: "فأمر بلالا أن يَزِن لي أوقية، فوزن لي بلال، فأرجح في الميزان" أي: زاد في الوَزْن أكثر مما يستحقه جابر رضي الله عنه من ثَمن البعير، وكانوا فيما سبق يتعاملون بالنقود وزناً لا عدداً وإن كانوا يتعاملون أيضا بها عدداً لكن الكثير وزناً.

  • جواز الزيادة على الثمن عند الأداء والرُّجْحان في الوزن.
  • جواز الرُّجْحان في الوزن.
  • فضل الزيادة غير المشروطة عند الوفاء بالدين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید