ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: احْتَرَقَ بَيْتٌ بالمَدِينَةِ عَلَى أهْلِهِ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِشَأنِهِم، قالَ: «إنَّ هذه النارَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُم، فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ».
ترجمہ
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدينہ میں رات کے وقت ایک گھر جل گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ آگ تو تہماری دشمن ہے۔ چنانچہ جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو“۔
تشریح
مدینہ میں رات کے وقت ایک گھر آگ لگنے کی وجہ سے جل گیا۔ نبی ﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ یہ آگ تو ان لوگوں کی دشمن ہے جنہوں نے اس کو جلا رکھا ہو جب کہ وہ اس کے شعلوں کی لپٹ اور اس کی تپش سے احتیاط نہ کریں۔ پھر نبی ﷺ نے لوگوں کو سونے سے پہلے آگ کو بجھا دینے کا حکم فرمایا تاکہ اس کے بھڑک اٹھنے اور جلا دینے جیسی مضرتوں کو دور کیا جا سکے۔
تشریح: العربية
احترق بيت بالمدينة في الليل، فبلغ ذلك النبيَّ صلى الله عليه وسلم فأخبرهم بأن هذه النار عدو لأهلها إذا لم يتحرزوا من شر لهيبها وإحراقها، ثم أمرهم -عليه الصلاة والسلام- بإطفائها قبل النوم دفعاً لشرها من الاشتعال والحريق ونحو ذلك.
- لزوم إطفاء النار قبل النوم.
- حرص رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على أمته في أمور الدنيا والآخرة.
- يدخل في معنى النار إطفاء قارورات الغاز وقواطع الكهرباء ونحوها، حتى يؤمن شرها من الحريق والاختناق.