ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه مرفوعاً: لما كان يوم خيبر أقبل نَفَرٌ من أصحاب النبي -صلى الله عليه و سلم- فقالوا: فلان شهيد وفلان شهيد. حتى مَرُّوا على رجل فقالوا: فلان شهيد. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "كلا إني رَأَيْتُهُ في النار في بُرْدَةٍ غَلَّهَا أو عباءة".
ترجمہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: فلاں شہید ہے اور فلاں شہید ہے، یہاں تک کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا تو (اسے دیکھ کر) کہنے لگے کہ فلاں (بھی) شہید ہے۔ اس پر نبی ﷺ فرمایا: ”ہر گز نہیں، میں نے تو اسے مال غنیمت میں سے ایک چادر یا چوغہ چرانے کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے“۔
تشریح
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہین کہ جنگ خیبر کے دن نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ وہ کہہ رہے تھے: فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے، یہاں تک کہ ایک آدمی کی لاش پر سے ان کا گزر ہوا تو وہ کہنے لگے کہ فلاں شہید ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں، میں نے تو اسے (مال غنیمت میں سے) ایک چوغہ اپنے لئے چھپا لینے کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے، جس کی وجہ سے اسے جہنم کی آگ میں عذاب دیا گیا۔ چنانچہ اس سے اللہ عز و جل کی راہ میں شہادت کی عظیم صفت ختم ہو گئی۔
تشریح: العربية
قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : لما كان يوم غزوة خيبر أقبل أناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهم يقولون: فلان شهيد، فلان شهيد حتى مروا على رجل فقالوا: فلان شهيد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : كلا إني رأيته في النار بسبب عباءة قد كتمها يريد أن يختص بها لنفسه، فعُذب بها في نار جهنم، وانتفت عنه هذه الصفة العظيمة وهي الشهادة في سبيل الله عز وجل .
- عِظم ذنب الخيانة في الأموال العامة وشدة عقابها.
- الشهادة في سبيل الله -تعالى- لا تكفر حقوق العباد.
- إكرام الله -تعالى- لرسوله -صلى الله عليه وسلم- حيث أطلعه على خواتيم بعض العباد.