حدیث

جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سے جَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی، جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نےاسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: تُوُفِّيَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وما في بيتي من شيء يَأكُلُهُ ذُو كَبدٍ إلا شَطْرُ شَعير في رَفٍّ لي، فأكَلتُ منه حتى طال عليَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سےجَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نے اسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو ان کے گھر میں تھوڑے سے جَو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ ”شَطْرُ شَعيرٍ“ کے معنی تھوڑے سے جَو کے ہیں، جیسا کہ امام ترمذی نے بیان کیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مدت تک اسی جو کو کھاتی رہیں جو نبی ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔ جب انہوں نے اسے وزن کر لیا تو وہ ختم ہو گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس تھوڑے سے اناج میں آپﷺ کی برکت شامل رہی، لیکن اسے وزن کیے بغیر، جو کہ توکل پر دلالت کرتا ہے۔ خرید وفروخت کے وقت وزن کرنا مطلوب ہے اس لے کہ بیچنے اور خریدنے والے کے حقوق اس سے وابستہ ہیں، البتہ خرچ کرتے وقت وزن (حساب) کرنا مستحب نہیں ہے۔

تشریح: العربية

تخبر عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم توفي وما في بيتها إلا شطر شعير، ومعناه: شيء من شعير، كما فسره الترمذي، فظلت تأكل من الشعير الذي تركه صلى الله عليه وسلم زمنًا، فلما وزنته نفد، وهذا دليل على استمرار بركته صلى الله عليه وسلم في ذلك الطعام القليل، مع عدم الكيل الدال على التوكل، فالكيل عند المبايعة مطلوب من أجل تعلق حق المتابعين، أما الكيل عند الإنفاق فغير مستحب.

  • إعراض النبي -صلى الله عليه وسلم- عن الدنيا وقد دانت له الجزيرة العربية، ومع ذلك فلم يكن في بيت أحب الناس إليه إلا هذا الشيء اليسير من الشعير.
  • استحباب الاقتصاد في النفقة.
  • من رزقه الله شيئًا، أو أكرمه بكرامة، أو لطف به في أمر، فعليه أن يشكر الله -تعالى-.
  • الكيل عند المبايعة مطلوب من أجل تعلق حق المتابعين، أما الكيل عند الإنفاق فغير مستحب؛ لأن الباعث عليه الشح، وقد فني الشعير بعد كيله؛ لأن كيله مناف للتسليم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید