حدیث

لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ».

ترجمہ

سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے فورا بعد افطار کر لیا کریں گے۔ اور ایسا سنت کى پیروى اور اس کی متعین کردہ حد پر رک جانے کى وجہ سے ہوگا۔

فوائد

  • نووی کہتے ہيں: اس حدیث میں سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے بعد جلدی افطار کر لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اس امت کے اندر اس وقت تک نظم و ضبط برقرار رہے گا اور وہ خیر وبرکت سے محظوظ ہوتے رہيں گے، جب تک اس سنت پر کاربند رہيں گے۔ اور اس کا افطار میں تاخیر کرنا اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ بگاڑ کی راہ پر گامزن ہونے جا رہی ہے۔
  • لوگوں کے اندر خیر اتباع سنت کی وجہ سے باقی رہے گی۔ جیسے ہی سنت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع ہوگی، بگاڑ کی راہيں کھلنے لگیں گی۔
  • اہل کتاب اور اہل بدعت کی مخالفت، جو افطار تاخیر سے کرتے ہيں۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث کے اندر افطار میں دیر نہ کرنے کی وجہ بیان کر دی گئی ہے۔ مہلب کہتے ہیں: اس کے اندر حکمت یہ ہے کہ دن کو دراز کر کے رات کے نہ اندر لے جایا جائے۔ یہ روزے دار کے لیے ‌زیادہ راحت بخش ہے اور اس سے اس کے اندر عبادت کی طاقت زیادہ آتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی علما کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جلدی اس کے بعد ہی کی جائے گی، جب اپنی آنکھ سے دیکھ لینے یا عدالت سے متصف دو شخصوں کی گواہی کے بعد اس بات کا یقین حاصل ہو جائے کہ سورج ڈوب چکا ہے۔ راجح قول کے مطابق صفت عدالت سے متصف ایک شخص کی گواہی بھی کافی ہے۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: تنبیہ: آج کے زمانے میں رونما ہونے والی ایک بہت ہی غلط بدعت یہ ہے کہ ماہ رمضان میں فجر سے لگ بھگ بیس منٹ پہلے دوسری اذان دے دی جاتی ہے اور یہ بتانے کے لیے کہ اب روزے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے کھانا پینا حرام ہو چکا ہے، چراغ بجھا دیے جاتے ہيں۔ اور ایسا اس بدعت کے گھڑنے والے کے اس گمان کى بنیاد پر ہوتا ہے کہ یہ عبادت میں احتیاط کے لئے کیا جاتا ہے۔ جب کہ اس حقیقت سے صرف معدودے چند افراد ہى واقف ہوتے ہیں۔ اور اس بدعت کى وجہ سے ان کے اندر یہ بدعت بھى در آئى کہ وہ اب سورج ڈوبنے کے کچھ دیر بعد ہی اذان دیتے ہیں اس گمان کى بنیاد پر کہ صحیح معنوں میں وقت کو پالیں۔ اس طرح افطار کو وقت سے پیچھے کردیا اور سحر کو آگے کردیا اور سنت کی مخالفت کے شکار ہو گئے۔ اور اسى لئے ان کے اندر خیر کم ہوگیا اور ان کے اندر شر کی گرم بازاری ہوگئى۔ اللہ المستعان۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنه لا يزال الناس بخير ما عَجَّلوا الفطر في الصيام بعد التَّحَقُّق من غروب الشمس؛ وذلك امتثالًا للسُّنَّة، والوقوف عند حدِّها.

  • قال النووي: فيه الحث على تعجيله بعد تحقُّق غروب الشمس، ومعناه لا يزال أَمْرُ الأمة مُنتظمًا وهم بخير ما داموا محافظين على هذه السنة، وإذا أخّروه كان ذلك علامة على فسادٍ يَقَعون فيه.
  • بقاء الخير في الناس بسبب اتباعهم للسنة، وفساد الأمور يتعلق بتغيُّر السنة.
  • مخالفة أهل الكتاب وأهل البدع، فإنهم يؤخِّرون الإفطار.
  • قال ابن حجر: وفيه بيان العلة في ذلك، قال المُهَلّب: والحكمة في ذلك أن لا يُزاد في النهار من الليل، ولأنه أرفق بالصائم وأقوى له على العبادة، واتفق العلماء على أنّ مَحَلّ ذلك إذا تحقق غروب الشمس بالرؤية أو بإخبار عَدْلَين، وكذا عدل واحد في الأرجح.
  • قال ابن حجر: تنبيه: من البدع المنكرة ما أُحْدِث في هذا الزمان من إيقاع الأذان الثاني قبل الفجر بنحو ثلث ساعة في رمضان، وإطفاء المصابيح التي جعلت علامة لتحريم الأكل والشرب على من يريد الصيام زعمًا ممن أحدثه أنه للاحتياط في العبادة، ولا يعلم بذلك إلا آحاد الناس، وقد جَرَّهم ذلك إلى أن صاروا لا يؤذِّنون إلا بعد الغروب بدرجة لتمكين الوقت زعموا، فأخروا الفطر، وعجلوا السحور، وخالفوا السنة، فلذلك قَلَّ عنهم الخير وكثر فيهم الشر، والله المستعان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید