حدیث

رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر بتایا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه : «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل مكة عام الفَتح، وعلى رأسه المِغْفَرُ، فلما نَزعه جاءه رجل فقال: ابن خَطَلٍ متعَلِّقٌ بأستار الكعبة، فقال: اقْتُلُوهُ».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر بتایا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کر دو.

تشریح

نبی ﷺ اور کفار قریش کے مابین ایک معاہدہ تھا۔ آپ ﷺ نے کچھ مشرکین کے خون کو رائیگاں قرار دیا ہوا تھا اور ان کے قتل کرنے کا حکم صادر فرما رکھا تھا۔ یہ صرف نو افراد تھے۔ جب مکہ فتح ہوا اور آپ ﷺ اس میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ بہت محتاط اور چوکنے انداز میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے اپنے سر پر خود (جنگی ٹوپی) پہن رکھی تھی۔ بعض صحابہ نے دیکھا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور ان کی حرمت کے توسط سے قتل ہونے سے بچنا چاہ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے برے طرز عمل اور جو برا سلوک وہ پہلے کرتا رہا اس سے خوب واقف تھا۔ صحابہ کرام نے نبی ﷺ سے پوچھ لینے سے پہلے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ جب انہوں نے نبی ﷺ سے اس بارے میں رجوع کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کردو۔ چنانچہ اسے حجرِ اسود اور مقام ابراہیم کے مابین قتل کر دیا گیا۔

تشریح: العربية

كان بين النبي صلى الله عليه وسلم وبين كفار قريش عهد، وكان قد أهدر دم بعض المشركين وأمر بقتلهم، وهم تسعة فقط، فلما كان فتح مكة، دخلها صلى الله عليه وسلم في حالة حيطة وحذر، فوضع على رأسه المِغْفَر، ووجد بعض الصحابة ابنَ خَطَل متعلقاً بأستار الكعبة، عائذاً بحرمتها من القتل؛ لمِا يعلم من سوء صنيعه، وقبح سابقته، فتحرجوا من قتله قبل مراجعة النبي صلى الله عليه وسلم فلما راجعوه قال: اقتلوه، فقتل بين الحجر والمقام.

  • جواز دخول مكة من غير إحرام لمن لا يريد نسكا؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- دخلها وهو غير محرم، إذ دخلها وعلى رأسه المِغْفَرُ.
  • تقديم الجهاد على النُّسُكِ؛ لأن مصالح الأَوَل أعم وأنفع.
  • كون مكة فتحت عَنْوَة.
  • الأخذ بأسباب الوقاية، وأن ذلك لا ينافي التوكل.
  • من جاز قتله في الحرم لم يمنعه منه تعلقه بأستار الكعبة.
  • عظم الكعبة وحرمتها في النفوس .
  • مشروعية ستر الكعبة بالثياب.
  • رفع أخبار المجرمين إلى ولاة الأمور.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید