حدیث

ایک شخص نے آپ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها : "أن حَمْزَةَ بن عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ قال للنبي صلى الله عليه وسلم : أصوم في السفر؟ - وكان كثير الصيام- فقال: "إن شئتَ فصُم، وإن شئت فَأَفْطِرْ".

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ (اور وہ بہت زیادہ روزے رکھتے تھے)، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔

تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بتا رہی ہیں کہ حمزہ بن عمرو الاسلمیّ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے یہ پوچھا کہ کیا میں سفر میں روزے رکھوں؟ آپ ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔ یہاں پر روزہ سے مراد فرض روزہ ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال فرض روزوں کے بارے میں تھا۔ اس کی دلیل ابو داؤد کی روایت کردہ یہ حدیث ہے کہ۔ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں صاحبِ سواری ہوں، جسے میں استعمال میں لاتا ہوں، کبھی اس پر خود سفر کرتا ہوں،اور کبھی اسے کرایہ پر دیتا ہوں۔ اور بسا اوقت (دورانِ سفر) یہ مہینہ یعنی رمضان آجاتا ہے اور میں (روزہ رکھنے کی) طاقت رکھتا ہوں... الحدیث۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ سوال مطلق روزہ رکھنے کے بارے میں تھا، چاہے وہ واجب ہو یا نفل، کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے: ”اور وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے تھے“۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفر میں روزه نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ جس نے رخصت کو لے لیا، اس نے درست کیا اور جس نے روزہ رکھا اس کے لئے یہ جائز ہے۔ اور اس کے روزہ کو واجب کا ادا کرنے والا سمجھا جائے گا۔

تشریح: العربية

أخبرت عائشة رضي الله عنها أن حَمْزَةَ بن عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ رضي الله عنه سأل النبي -صلى لله عليه وسلم- عن الصوم في السفر؟ فخيره النبي صلى الله عليه وسلم بين الصيام والفطر، فقال: "إن شئت فصم، وإن شئت فأفطر". ومراده بالصوم هنا: صوم الفريضة؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : "هي رُخْصَةٌ من الله". وهذا يشعر ؛ بأنه سأل عن صيام الفريضة، ويدل لذلك ما أخرجه أبو داود ، قال رضي الله عنه : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَاحِبُ ظَهْرٍ أُعَالِجُهُ أُسَافِرُ عَلَيْهِ وَأَكْرِيهِ وَإِنَّهُ رُبَّمَا صَادَفَنِي هَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي رَمَضَانَ وَأَنَا أَجِدُ الْقُوَّةَ.." الحديث. ويحتمل أنه سؤال عن الصوم مطلقًا الواجب والنفل؛ لقولها: (وكان كثير الصيام). ومن هذا يتبين، أن الفطر في السفر رخصة من الله ، فمن أخذ بالرخصة أصاب ومن صام جاز له ذلك، واعتبر صيامه مؤدياً للواجب عليه.

  • التخيير بين الصيام والفطر، لمن عنده قوة على الصيام.
  • صحة صوم رمضان في السفر.
  • يسر الشريعة الإسلامية.
  • إثبات المشيئة للعبد.
  • الرخصة في الفطر في السفر؛ لأنه مظنة المشقة.
  • حرص الصحابة رضي الله عنهم على أخذ العلم ليعملوا به.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید