حدیث

رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمھاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الْوِصَالِ، قالوا: إنك تواصل؟ قال: إني لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إني أُطْعَمُ وَأُسْقَى». وفي رواية أبي سعيد الخدري رضي الله عنه : «فَأَيُّكُمْ أراد أن يواصل فليواصل إلى السَّحَرِ».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپﷺ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمھاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے“۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی وصال کرنا چاہے، تو سحری کے وقت تک وصال کر لے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو رحمت و شفقت کے بہ سبب صوم وصال سے منع فرمایا۔ تاہم صحابہ چوں کہ فضیلت پانے کی چاہت اور ہر ایسا عمل کرنے کی حرص رکھتے تھے، جو انھیں اللہ کے قریب کر دے، اس لیے ان کی خواہش تھی کہ وہ نبی ﷺ کے صوم وصال میں اقتدا کریں۔ اس لیے وہ کہنے لگے: آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے انھیں فرمایا کہ انھیں تو ایک ذات کھلاتی اور پلاتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں کھانے پینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ تاہم تم میں سے اگر کوئی وصال کرنا چاہے، تو اسے چاہیے کہ وہ سحری کے وقت تک وصال کرے۔ شریعت اسلامی بہت کشادہ اور آسان ہے۔ اس میں نہ کوئی مشکل ہے، نہ مشقت اور نہ ہی غلو اور تعمق۔ کیوں کہ صوم وصال نفس کو عذاب میں مبتلا کرنے اور مشقت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ جب کہ اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ نیز یہ کہ آسانی اور سہولت کی وجہ سے عمل زیادہ دیر تک جاری رہتا ہے۔ تھکاوٹ اور اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ اس حدیث میں اس عدل کا ذکر ہے، جسے اللہ نے زمین میں رکھا ہے۔ یعنی اللہ کا مطالبۂ عبادت پورا کیا جائے اور نفس کو وہ چیزیں عطا کی جائیں، جو اس کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

تشریح: العربية

نهى النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه عن الْوِصَالِ رحمة بهم وإشفاقاً عليهم، ولكن الصحابة لمحبتهم للفضل وحرصهم على ما يقرب من الله رغبوا في الْوِصَالِ تأسياً بالنبي في كونه يواصل وقالوا: إنك تواصل، فأخبرهم بأنه له مُطعِم يطعمه وساق يسقيه بما يعوضه عن الطعام والشراب، ولكن من أراد منكم الوصال، فله أن يواصل إلى السَّحَرِ. فالشريعة الإسلامية سمحة مُيَسَّرة لا عَنَتَ فيها ولا مشقة، ولا غٌلُوُّ ولا تعمق؛ لأن في ذلك تعذيباً للنفس وإرهاقاً لها، واللَه لا يكلف نفساً إلا وسعها. ولأن التيسير والتسهيل أبقى للعمل وأسلم من السأم والملل، وفيه العدل الذي وضعه الله في الأرض، وهو إعطاء الله ما طلبه من العبادة، وإعطاء النفس حاجتها من مقوماتها.

  • التحذير من المواصلة في الصوم إلى ما بعد السحر؛ لما فيه من الضرر الحاصل أو المتوقع.
  • جواز الْوِصَالِ إلى السَّحَرِ لمن قدر عليه، وتركه أولى.
  • رحمة الشارع الحكيم الرحيم بالأمة، إذ حرَّم عليهم ما يضرهم.
  • الأصل التأسي بالنبي -صلى الله عليه وسلم- حتى يقوم دليل خصوصية الحكم به.
  • الوِصَال من خصائص النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • أن الصحابة كانوا يرجعون إلى فعله المعلوم صفته ويبادرون إلى التأسي به إلاَّ فيما نهاهم عنه.
  • حرص الصحابة ـرضي الله عنهم- على الخير.
  • حسن تعليم النبي -صلى الله عليه وسلم-، حيث بين للصحابة سبب الفرق بينه وبينهم ليزادوا طمأنينة في الحكم .
  • أن غروب الشمس وقت للإفطار، ولا يحصل به الإفطار، وإلا لما كان للوصال معنى إذا صار مفطراً بغروب الشمس.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید