ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «خمسٌ من الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلنَ في الحَرَمِ: الغرابُ، وَالحِدَأَةُ، وَالعَقْرَبُ، وَالفَأْرَةُ، وَالكَلْبُ العَقُورُ». وفي رواية: « يقتل خَمْسٌ فَوَاسِق في الْحِلِّ وَالْحَرَمِ ».
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ جانور ايسے ہیں جو موذی ہیں اور ان کو حرم میں بھی مار ڈالنا چاہیے: کوّا، چیل، بچھو ،چوہا اور کاٹنے والا کتّا“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”پانچ موذی جانوروں کو حرم اور غیر حرم ہر جگہ مار دینا چاہیے“۔
تشریح
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے پانچ قسم کے جانوروں کو مارنے کا حکم دیا، جو سب کے سب موذی ہیں؛ چاہے وہ حرم میں ہوں یا غیر حرم میں۔ پھر آپ ﷺ نے ان پانچوں کے نام بتائے کہ یہ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنےوالا کتا ہیں۔ یہ پانچ قسم کے جانور فسق کی صفت سے متصف ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے یہ باقی تمام جانوروں سے الگ ہیں؛ کیوں کہ یہ حملہ آور ہوتے ہیں اور موذی ہیں۔ آپ ﷺ نے چند کے نام گنوائے؛ کیوں کہ ان کی اذیت ناکی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ باقی تمام جانوروں میں جو بھی اذیت ناکی میں ان سے مشابہہ ہوں گے، ان کا حکم بھی یہی ہو گا، انھیں بھی ان کے موذی پن اور نقصان دہ ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔ نہ حرم انھیں بچائے گا اور نہ احرام انھیں پناہ دے گا۔
تشریح: العربية
في هذا الحديث تخبر عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بقتل خمس من الدواب كلهن يتصف بالفسق، سواء في الحِل أو الحرم، ثم بين تلك الخمس بقوله: الغُرابُ والحِدَأَةُ، وَالعَقْرَبُ، وَالفَأْرَةُ، والكلب العَقُورُ. فهذه خمسة أنواع من الحيوانات، وصفت بالفسق، وهو خروجها بطبعها عن سائر الحيوانات، بالتعدي والأذى. ونبه بها معدودة، لاختلاف أذاها، فيلحق بها ماشاكلها في فسقها من سائر الحيوانات، فتقتل لأذيتها واعتدائها، فإن الحرم لا يجيرها والإحرام لا يعيذها.
- مشروعية قتل هذه الدَّوَابُّ الخمسِ في الحِلِّ والحرم، للمُحل والمُحرم.
- جواز قتل كل ما شابهها في طبعها من الأذية.
- جواز قتلها ولو كانت صغيرة اعتبارا بمآلها.
- محاربة الإسلام للأذى والعدوان، حتى في البهائم.
- كمال التشريع الإسلامي، حيث طلب القضاء على ذوي الفساد والإفساد.