ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ بندوں کے رنگ وروپ اور ان کے کی جسموں کو نہیں دیکھتا کہ خوب صورت ہيں یا بد صورت؟ تندرست ہیں یا بیمار؟ ان کی دولت بھی نہیں دیکھتا کہ کم ہے یا زیادہ؟ اللہ عز و جل ان چیزوں اور ان چیزوں میں ان کے تفاوت کی بنیاد پر ان کا حساب نہیں لیتا۔ اللہ ان کے دلوں اور دلوں کے اندر موجود تقوی، یقین، سچائی، اخلاص یا پھر ریاکاری اور شہرت طلبی کو دیکھتا ہے۔ اللہ بندوں کے اعمال کو دیکھتا ہے کہ صحیح ہیں یا غلط اور انھیں باتوں کی بنیاد پر ان کو جزا یا سزا دیتا ہے۔
فوائد
- دل کی اصلاح اور اسے ہر مذموم صفت سے پاک صاف رکھنے کا اہتمام۔
- دل کی اصلاح اخلاص پر مبنی ہے اور عمل کی درستگی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اتباع پر۔ اللہ کے یہاں یہی دونوں چیزیں دیکھی جاتی ہیں اور انہی کا اعتبار ہے۔
- انسان کو مال و دولت، خوب صورتی اور اس دنیا کی کسی بھی چیز کے دھوکے میں نہيں آنا چاہیے۔
- اس میں باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر پر توجہ مبذول کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
تشریح: العربية
يُبَِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ اللهَ سبحانه وتعالى لا يَنظُرُ إلى صور العبادِ وأجسامِهم، هل هي جميلةٌ أو ذَميمةٌ؟ هلْ هي كَبيرةٌ أو صَغيرةٌ؟ أو صَحيحةٌ أو سَقيمةٌ؟ ولا يَنظُرُ إلى أموالهم، هل هي كثيرة أو قليلة؟ فالله عزَّ وجلَّ لا يُؤاخِذُ عبادَه ولا يُحاسبُهم على هذه الأمورِ وتَفاوُتِهم فيها، ولكنْ يَنظُرُ إلى قُلوبِهم وما فيها من التَّقْوى واليقينِ، والصدقِ والإخلاصِ، أو قصدِ الرياءِ والسُّمعةِ، وينظُرُ إلى أعمالِهم من حيثُ صلاحُها وفسادُها؛ فيثيبُ ويُجازي عليها.
- الاعتناء بإصلاح القلب، وتطهيره عن كل وصف مذموم.
- صلاح القلب بالإخلاص، وصلاح العمل بمتابعة النبي عليه الصلاة والسلام، وهما محل النظر والاعتبار عند الله تعالى.
- لا يغتر الإنسان بماله ولا بجماله ولا ببدنه ولا بشيء من مظاهر هذه الدنيا.
- التحذير من الركون إلى الظاهر دون إصلاح الباطن.