ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ». وفي لفظ للبخاري: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى».
ترجمہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔ چنانچہ جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہے اور جس کی ہجرت حصول دنیا کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے، جس کے لیے اس نے ہجرت کی"۔جب کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے : "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سارے اعمال کا اعتبار نیت کی بنیاد پر ہے۔ یہ حکم عبادات اور معاملات جیسے سبھی اعمال کے لیے عام ہے۔ جو شخص کسی منفعت کے پیش نظر کوئی کام کرے گا، اسے ثواب نہیں، بلکہ بس وہی منفعت حاصل ہوگی اور جو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کوئی کام کرے گا، اسے اپنے عمل کا ثواب ملے گا، چاہے وہ عمل کھانے اور پینے جیسا معمول کے مطابق کیا جانے والا کام ہی کیوں نہ ہو۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اعمال پر نیت کے اثر کو بیان کرنے کے لیے ایک مثال پیش کی، جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ عمل کی ظاہری شکل ایک ہونے کے باوجود ملنے والا نتیجہ الگ الگ ہے۔ آپ نے بتایا کہ جس نے ہجرت اور اپنا وطن چھوڑنے کے پیچھے نیت یہ رکھی کہ اللہ کی خوش نودی حاصل ہوجائے، اس کی ہجرت دینی ہجرت ہے اور اسے اس کی صحیح نیت کی وجہ سے ثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف جس نے ہجرت کرتے وقت دنیوی منفعت، جیسے مال و دولت، عہدہ و منصب، تجارت اور شادی وغیرہ کو پیش نظر رکھا، اسے بس وہی منفعت حاصل ہوگی، جسے حاصل کرنے کی اس نے نیت کی تھی۔ اجر و ثواب اور نیکی اس کے حصے میں نہيں آئے گی۔
فوائد
- اخلاص کی ترغیب، کیوں کہ اللہ بس اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جسے اس کی خوش نودی حاصل کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہو۔
- جن اعمال کے ذریعے اللہ عز و جل کا تقرب حاصل کیا جا سکتا ہے، ان کو اگر کوئی شخص عادت کے طور پر کرتا ہے، تو اسے ان کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ ان کا اجر و ثواب اسی وقت ملے گا، جب ان کو اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔
تشریح: العربية
يُبَيِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ كل الأعمال معتبرة بالنية، وهذا الحكم عام في جميع الأعمال من العبادات والمعاملات، فمن قصد بعمله منفعةً لم يَنَلْ إلا تلك المنفعة ولا ثواب له، ومن قصد بعمله التقرب إلى الله تعالى نال من عمله المثوبة والأجر ولو كان عملًا عاديًّا، كالأكل والشرب. ثم ضرب صلى الله عليه وسلم مثلًا لبيان تأثير النية في الأعمال مع تساويهما في الصورة الظاهرة، فبَيَّن أنَّ من قصد بهجرته وترك وطنه ابتغاء مرضات ربه، فهجرته هجرة شرعية مقبولة يثاب عليها لصدق نيته، ومن قصد بهجرته منفعةً دنيوية، من مال، أو جاه، أو تجارة، أو زوجة، فلا ينال من هجرته إلا تلك المنفعة التي نواها، ولا نصيب له من الأجر والثواب.
- الحث على الإخلاص، فإن الله لا يقبل من العمل إلا ما ابتُغي به وجهه.
- الأعمال التي يُتَقَرَّبُ بها إلى الله عز وجل إذا فعلها المكلف على سبيل العادة ليس له ثواب عليها، حتى يقصِدَ بها التقرب إلى الله.