حدیث

اے یزید! تجھے وہ (اجر و ثواب) ملے گا جس کی تو نے نیت کی اور اے معن! وہ تیرا ہے جو تو نے لے لیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن معن بن يزيد بن الأخنس رضي الله عنهم قال: كان أبي يزيدُ أَخْرجَ دَنَانِيرَ يتصدقُ بها، فوضعها عند رجلٍ في المسجدِ، فجِئْتُ فأخذتُها فأَتَيْتُهُ بها، فقال: واللهِ، ما إيَّاكَ أردتُ، فخَاصَمْتُهُ إلى رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فقال: «لكَ ما نويتَ يا يزيدُ، ولك ما أخذتَ يا معنُ».

ترجمہ

معن بن یزید بن اخنس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ میرے والد یزید نے چند دینار صدقہ کے لیے نکالے اور انہیں مسجد میں ایک شخص کے پاس رکھ دیا۔ میں آیا تو میں نے ان کو لے لیا اور انہیں لے کر اپنے والد کے پاس آیا۔ میرے والد نے کہا کہ اللہ کی قسم! میرا تجھ کو دینے کا ارادہ نہ تھا۔ چنانچہ میں یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یزید! تجھے وہ (اجر و ثواب) ملے گا جس کی تو نے نیت کی اور اے معن! وہ تیرا ہے جو تو نے لے لیا“۔

تشریح

یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے کچھ درہم نکال کر مسجد میں موجود ایک شخص کے پاس رکھ دیے تاکہ وہ اسے فقرا کو بطور صدقہ دے دے۔ اتنے میں ان کا بیٹا آیا اور اس نے وہ درہم لے لیے۔انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میرا ارادہ یہ نہیں تھا کہ یہ درہم بطور صدقہ تجھے دوں۔ اس پر وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:’’اے یزید! تجھے وہ مل جائے گا جس کی تو نے نیت کی کیونکہ تو نے صدقہ مسلمانوں کے فقرا میں سے ایک فقیر شخص تک پہنچا دیا ہے چنانچہ تمہاری نیت کے مطابق تمہارے لیے اجر واجب ہو چکا ہے اور اے معن! تو نے جو کچھ لیا ہے وہ تیرا ہے۔ کیونکہ تو نے صحیح طریقے سے اسے حاصل کیا ہے۔ یزید بن اخنس کے بیٹے اس صدقے کے مستحقین میں سے تھے۔

تشریح: العربية

أخرج يزيد بن الأخنس دراهم عند رجل في المسجد؛ ليتصدق بها على الفقراء، فجاء ابنه معن فأخذها، فقال له: ما أردتُ أن أتصدق بهذه الدراهم عليك، فذهبا ليتحاكما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "لك يا يزيد ما نويتَ لأنك أوصلت الصدقة إلى فقير من فقراء المسلمين فوجب لك الأجر على نيتك، ولك يا معن ما أخذت" لأنك أخذته بوجه صحيح وقد كان ابنه من المستحقين لهذه الصدقة.

  • جواز دفع صدقة التطوع للأبناء.
  • جواز التوكيل في توزيع الصدقة.
  • جواز التحدث بنعم الله -تعالى-.
  • جواز التحاكم بين الأب والابن وأن ذلك لا يُعد عقوقا.
  • للمتصدق أجر ما نواه سواء صادف المستحق أم لا.
  • لا يحق للأب الرجوع في الصدقة على ولده بخلاف الهبة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید