حدیث

”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحاسے امام احمد‘ ترمذی‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے

عربی متن

عَنْ المِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أَكَلاَتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ».

ترجمہ

مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ ہمیں یہاں طب کا ایک اصول بتا رہے ہیں، جس سے انسان اپنی صحت کی حفاظت کر سکتا ہے۔ یہ اصول ہے کم کھانا کھانا۔ کھانا بس اتنا کھایا جائے کہ انسان زندہ رہے اور ضروری کاموں کے لیے توانائی مل جائے۔ بھرا جانے والا سب سے بدترین برتن دراصل پیٹ ہے کہ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے نتیجے میں بے شمار ظاہر و باطنی بیماریاں جلد یا بدیر سامنے آتی ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اگر انسان کو پیٹ بھر کر کھانا کھانا ہی ہو، تو ایک تہائی حصے کے بہ قدر کھانا کھائے، ایک تہائی حصے کے بہ قدر پانی پیے اور ایک تہائی حصہ سانس لینے کے لیے رکھے، تاکہ پریشانی، نقصان اور دینی و دنیوی فرائض کی ادائیگی میں سستی نہ ہو۔

فوائد

  • انسان کو زیادہ کھانے پینے سے بچنا چاہیے۔ یہ طب کا بھی ایک اہم ترین اصول ہے۔ کیوں کہ زیادہ کھانے پینے کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  • کھانے کا مقصد صحت اور طاقت کو برقرار رکھنا ہے جو زندگی کی بنیاد ہیں۔
  • پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بہت سے جسمانی اور دینی نقصانات ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تم پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے بچو۔ کیوں کہ یہ جسم کے لیے نقصان دہ ہے اور نماز میں سستی پیدا کرتا ہے۔"
  • حکم کے اعتبار سے کھانے کی کئی قسمیں ہوا کرتی ہیں۔ اتنا کھانا واجب ہے، جس سے جان بچی رہے اور جسے ترک کرنا نقصان کا باعث ہو۔ قدر واجب سے زیادہ اور اتنا کھانا جائز ہے، جس سے نقصان ہونے کا ڈر نہ ہو۔ اتنا کھانا مکروہ ہے کہ جس سے نقصان ہونے کا ڈر ہو۔ اتنا کھانا حرام ہے کہ جس سے نقصان ہونے کا یقین ہو۔ اتنا کھانا مستحب ہے کہ جس سے اللہ کی عبادت اور نیکی کے کاموں میں تعاون ملے۔ زیر بحث حدیث میں ان تمام باتوں کو مختصر انداز میں درج ذیل تین مراتب میں بیان کر دیا گیا ہے: 1- پیٹ بھر کر کھانا کھانا۔ 2- اتنا کھانا کھانا کہ پیٹھ کھڑی رہ سکے۔ 3۔ جب کہ تیسرے مرتبے کو درج ذیل الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے: "پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔" لیکن یہ ساری باتیں اس وقت ہیں، جب کھائی جانے والی چیز حلال ہو۔
  • یہ حدیث طب کے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیوں کہ علم طب کے بنیادی اصول تین ہیں: صحت کی حفاظت کرنا، احتیاط برتنا اور علاج کرنا۔ جب کہ اس حدیث میں پہلے دونوں اصول موجود ہیں۔ ارشاد باری تعالی بھی ہے: (اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے آگے مت نکلو۔ بے شک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔)
  • اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے، جس میں انسان کے دینی ودنیوی دونوں طرح کے مصالح کا خیال رکھا گیا ہے۔
  • شرعی علوم ہی کا ایک حصہ علم طب کی بنیادی باتیں اور اس کے مختلف حصے ہيں۔ جیسا کہ شہد اور کلونجی کے بارے میں آیا ہے۔
  • شرعی احکام کے اندر بڑی حکمتیں پائی جاتی ہيں۔ تمام شرعی احکام نقصانات کو روکنے اور منافع کو حاصل کرنے پر مبنی ہیں۔
تشریح: العربية

يرشدنا النبي الكريم صلى الله عليه وسلم إلى أصل من أصول الطب، وهي الوقاية التي يقي بها الإنسان صحته، وهي التقليل من الأكل، بل يأكل بقدر ما يسد رمقه ويقويه على أعماله اللازمة، وإن شر وعاء مُلئ هو البطن لما ينتج عن الشبع من الأمراض الفتاكة التي لا تحصى عاجلًا أو آجلًا باطنًا أو ظاهرًا. ثم إن الرسول صلى الله عليه وسلم قال: إذا كان الإنسان لابد له من الشبع، فليجعل الأكل بمقدار الثلث، والثلث الآخر للشرب، والثلث للنفس حتى لا يحصل عليه ضيق وضرر، وكسل عن تأدية ما أوجب الله عليه في أمر دينه أو دنياه.

  • عدم التوسع في الأكل والشرب، وهذا أصل جامع لأصول الطب كلها، لما في كثرة الشبع من الأمراض والأسقام.
  • الغاية من الأكل، هي حفظ الصحة والقوة وبهما سلامة الحياة.
  • لملء البطن من الطعام أضرار بدنية ودينية، قال عمر رضي الله عنه: «إياكم والبطنة، فإنها مفسدة للجسم ومكسلة عن الصلاة».
  • الأكل من حيث الحكم على أقسام: واجب، وهو ما به تُحفظ الحياة ويؤدي تركه إلى ضرر. جائز، وهو ما زاد على القدر الواجب ولا يُخشى ضرره. مكروه، وهو ما يُخشى ضرره. محرم، وهو ما يُعلم ضرره. ومستحب، وهو ما يُستعان به على عبادة الله وطاعته، وقد أجمل ذلك في الحديث في ثلاث مراتب: أولها: ملء البطن. ثانيها: أكلات أو لقيمات يقمن صلبه. ثالثها: قوله: «ثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه» وهذا كله إذا كان جنس المأكول حلالًا.
  • الحديث قاعدة من قواعد الطب، وحيث إن علم الطب مداره على ثلاثة أصول: حفظ القوة والحمية والاستفراغ، فقد اشتمل الحديث على الأولين منها، كما في قوله تعالى : (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ) [الأعراف: 31].
  • كمال هذه الشريعة حيث اشتملت على مصالح الإنسان في دينه ودنياه.
  • من علوم الشريعة أصولُ الطب وأنواع منه، كما جاء في العسل والحبة السوداء.
  • اشتمال أحكام الشريعة على الحكمة، وأنها مبنية على درء المفاسد وجلب المصالح.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید