حدیث

میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم نکال پھینکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم :«عُرِضَتْ عَلَيَّ أعمالُ أُمتي، حَسَنُهَا وسَيِّئُهَا فَوَجَدتُ في مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، ووَجَدتُ في مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُونُ في المَسْجِدِ لا تُدْفَنُ».

ترجمہ

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم تھوکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا“۔

تشریح

اللہ عز و جل نے امت کے اعمال کو نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے ان کے اچھے اعمال میں سے ایک اچھا عمل راہ گیروں کو تکلیف دینے والی راستے میں پڑی کسی بھی چیز کو دور کر دینا پایا اور ان کے برے اعمال میں سے ایک عمل یہ پایا کہ انسان مسجد میں تھوک دے اور پھر اسے (مٹی میں) دفن کر کے یا کسی اور طریقے سے زائل نہ کرے۔

تشریح: العربية

عرض الله عز وجل أعمال الأمة على نبينا صلى الله عليه وسلم ، فوجد من محاسنها: إزالة ما يؤذي المارة من الطريق، ووجد من سيئها أن يبصق الإنسان في المسجد ولا يزيلها بالدفن أو بغيره.

  • إطلاعُ الله -سبحانه وتعالى- رسولَه -صلى الله عليه وسلم- على أعمال أمته.
  • الأعمال تنقسم إلى حسن وسيء.
  • الأعمال الحسنة كل عمل فيه خير وإن دَقَّ، والسيئة التي فيها شر وإن دقَّ.
  • ينبغي الإكثار من وجوه الخير؛ إذ من جملتها ما يظنه الناس لا شأن له، كإماطة الأذى عن الطريق.
  • الحث على فعل ما ينفع الناس ويجلب لهم مصلحة، والبعد عن كل ما يضر بهم ويجلب لهم مفسدة.
  • وجوب احترام المساجد والمحافظة على آدابها وإخراج الأوساخ منها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید