حدیث

اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم اسے قتل کر دو گے، تو وہ اس جگہ پر آ جائے گا، جس پر اس کو قتل کرنے سے پہلے تم تھے اور تم اس جگہ پر چلے جاؤ گے، جس پر وہ اس کلمے کو کہنے سے پہلے تھا"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ المِقْدَادِ بْنَ عَمْرٍو الكِنْدِيَّ رضي الله عنه: أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لاَذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَقْتُلْهُ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ».

ترجمہ

مقداد بن عمرو کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اگر میرا کسی کافر سے سامنا ہو جائے اور ہم ایک دوسرے سے لڑائی شروع کر دیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور پھر مجھ سے بچنے کے لیے ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہے کہ میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کیا، تو کیا میں ایسا کہنے کے بعد بھی اسے قتل کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اسے قتل نہ کرو"۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا اور ہاتھ کاٹنے کے بعد ایسا کہا؟ (کیا پھر بھی اسے قتل نہیں کرنا چاہیے؟) آپ ﷺ نے فرمایا : "اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم اسے قتل کر دو گے، تو وہ اس جگہ پر آ جائے گا، جس پر اس کو قتل کرنے سے پہلے تم تھے اور تم اس جگہ پر چلے جاؤ گے، جس پر وہ اس کلمے کو کہنے سے پہلے تھا"۔

تشریح

مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ جب میدان جنگ میں ان کا سامنا کسی کافر سے ہو جائے، دونوں اپنی اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے سے بھڑ جائيں، کافر ان کے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے، پھر بھاگ کر ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہنے لگے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے، تو کیا میرے لیے اس کا قتل حلال ہوگا، جب کہ اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا ہے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تم اسے قتل مت کرو۔ جواب سن کر انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا، اس کے باوجود میں اس کا قتل نہ کروں؟ آپ نے فرمایا : تم اس کا قتل مت کرو۔ کیوں کہ اب اس کا خون کرنا حرام ہو چکا ہے۔ اگر مسلمان ہو جانے کے بعد بھی تم اس کا قتل کر دوگے، تو وہ مسلمان ہو جانے کی وجہ سے معصوم الدم ٹھہرا اور تم اس کا قتل کرنے کی وجہ سے بطور قصاص مباح الدم ہو گئے۔

فوائد

  • جس شخص سے اسلام میں داخل ہونے پر دلالت کرنے والا کوئی قول یا فعل صادر ہو، اس کا قتل حرام ہے۔
  • جب کوئی کافر دوران جنگ مسلمان ہو جائے، تو اس کا خون محفوظ ہو جاتا ہے اور اس سے دست کش رہنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہاں، اگر صاف دکھائی دے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے تو بات الگ ہے۔
  • مسلمان پر واجب ہے کہ اس کی خواہش شریعت کے تابع ہو، نہ کہ عصبیت اور انتقام کے۔
  • ابن حجر عسقلانی کہتے ہيں : اس بات کو ترجیح دیتے ہوئے کہ اس حدیث میں جس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا ہے، وہ واقع نہيں ہوا تھا، اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ کسی مسئلے کے پیش آنے سے پہلے اس کا شرعی حکم دریافت کیا جا سکتا ہے۔ بعض سلف کا اسے ناپسند کرنا ایسے مسائل کے بارے میں پوچھنے پر محمول ہے، جو بہت کم واقع ہوتے ہوں۔ جن مسائل کا عام طور پر سامنے آنا ممکن ہو، ان کا حکم جاننے کے لیے ان کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔
تشریح: العربية

سألَ المقدادُ بن الأسود رضي الله عنه النبيَّ صلى الله عليه وسلم إذا هو لَقِيَ رجلًا من الكفار في المعركة، فتبارزا بالسيوف، حتى أصاب الكافر إحدى يديه بالسيف فقطعها، ثم فَرَّ الكافر منه وتَحَصَّنَ بشجرة، فقال: لا إله إلا الله، أيحل لي قَتْلُه بعد أنْ قَطَعَ يدي؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: لا تقتلْه. فقال يا رسول الله، إنه قطع إحدى يديَّ، أَمَعَ هذا لا أقتله؟! فقال صلى الله عليه وسلم: لا تقتلْه، فإنه أصبح حَرامُ الدَّم، فإنك إنْ قَتلتَه بعد إسلامه؛ فإنه بمنزلتِك مَعصومُ الدَّم بإسلامه، وإنك بمنزلته مُباح الدم بقتلك إياه قِصاصًا.

  • مَن صَدَر منه ما يَدل على الدخول في الإسلام مِن قول أو فعل حَرُم قتلُه.
  • إذا أسلم أحدٌ من الكفار أثناء المعركة، فقد عُصِم دمُه، ووجب الكفُّ عنه إلا أن يَتَبَيَّنَ منه خلاف ذلك.
  • يجب على المسلم أن يكون هواه تبعًا للشرع وليس للعصبية والانتقام.
  • قال ابن حجر: جواز السؤال عن النوازل قبل وقوعها بناءً على ترجيح أنَّ القصة لم تقع، وأما ما نُقِلَ عن بعض السلف من كراهة ذلك فهو محمول على ما يَنْدُرُ وقوعُه، وأما ما يمكن وقوعُه عادةً فيُشرَع السؤالُ عنه لِيُعْلَم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید