حدیث

نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم پھٹ جاتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها والمغيرة بن شعبة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقوم من الليل حتى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فقلت له: لم تَصْنَعُ هذا يا رسول الله، وقد غفر اللهُ لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟ قال: «أَفَلَا أحب أن أكونَ عبدا شَكُورًا».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا پھر میں شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟“

تشریح

نبی ﷺ رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے -یہ گمان کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ ایسا گناہ کے خوف سے اور مغفرت اوررحمت کی طلب میں کرتے ہیں؛ حالاں کہ آپ کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت پکی ہو چکی ہے اور آپ ﷺ کو اس کی ضرورت نہیں ہے- آپ ﷺ سے عرض کی کہ اے اللہ کےرسول ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں، تو پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا میں شکز گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ عبادت مغفرت پر اظہار شکر کے لیے ہے۔

تشریح: العربية

كان النبي صلى الله عليه وسلم يقوم بالتهجد من الليل حتى تتشقق قدماه، فقالت له عائشة رضي الله عنها ، -ظنا منها أنه إنما يعبد الله خوفًا من الذنب وطلبًا للمغفرة والرحمة، وهو قد تحقق له غفران الله تعالى فلا يحتاج لذلك-: لِمَ تصنع هذا يا رسول الله وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم : أفلا أحب أن أكون عبدا شكورا، فهذه العبادة سببها الشكر على المغفرة.

  • كثرة اجتهاد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في عبادة الله -تعالى-.
  • من أنعم الله عليه بنعمة وخَصَّهُ بفضيلة يجب عليه شكرها.
  • يجب أن تكون النعمة سببا لزيادة الشكر.
  • أن من شكر الله -تعالى- قيام الليل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید