ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا -أَوْ قَالَ: فَلْيَعْتَزِلْ- مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ»، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ البُقُولِ، فَقَالَ قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: «كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لاَ تُنَاجِي». ولِمُسْلِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ، الثُّومِ - وقَالَ مَرَّةً: مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْكُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ».
ترجمہ
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے لہسن یا پیاز کھایا ہو، وہ ہم سے دور رہے - یا آپ ﷺ نے فرمایا : ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے"۔ آپ ﷺ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی، جس میں کچھ سبزیاں تھیں۔ آپ ﷺ کو ان کی بو آئی، تو ان کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ کو اس میں موجود سبزیوں کے بارے میں بتایا گیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : اسے میرے کسی صحابی کے قریب کر دو۔ در اصل وہ صحابی آپ کے ساتھ تھے۔ جب اس صحابی نے (جنہیں یہ سبزی دی گئی تھی) اسے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانے کو ناپسند کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : "تم کھالو۔ کیوں کہ میں اس ذات سے مناجات کرتا ہوں، جس سے تم نہیں کرتے۔" مسلم کی ایک روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے یہ سبزی یعنی لہسن کھائی ہو- ایک بار فرمایا : جس نے پیاز، لہسن یا گندنا کھائی ہو، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ کیوں کہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے، جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے شخص کو، جس نے پیاز یا لہسن کھائی ہو، مسجد آنے سے منع فرمایا ہے، تاکہ ان دونوں چيزوں کی بد بو باجماعت نماز پڑھنے کے لیے مسجد آنے والے دوسرے بھائیوں کی اذیت کا باعث نہ بنے۔ یہ ممانعت دراصل مسجد آنے کی تنزیہی ممانعت ہے۔ ان دونوں چيزوں کو کھانے کی ممانعت نہيں۔ کیوں کہ ان دونوں چيزوں کا کھانا مباح ہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سبزیوں کی ایک ہانڈی لائی گئی۔ لیکن جب آپ نے ان کے اندر بو محسوس کی اور بتایا گیا کہ اس میں کیا ہے، تو اسے خود کھانے کی بجائے اپنے ایک ساتھی کی جانب بڑھا دیا۔ جب انھوں نے آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، اسے کھانا پسند نہيں کیا، تو یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا : تم کھاؤ۔ مجھے کھانے سے گریز اس لیے ہے کہ میں وحی لے کر آنے والے فرشتوں سے بات کرتا ہوں۔ آپ نے بتایا کہ فرشتوں کو بھی بدبودار چیزوں سے اسی طرح تکلیف ہوتی ہے، جس طرح انسانوں کو ہوتی ہے۔
فوائد
- اس شخص کو مسجد میں آنے سے منع کیا گیا ہے، جس نے لہسن، پیاز یا گندنا کھایا ہو۔
- ان چیزوں کے حکم میں ان تمام بدبودار چیزوں کو رکھا جائے گا، جو نمازیوں کی اذیت کا سبب بنتی ہوں۔ جیسے سگریٹ اور تمباکو وغیرہ۔
- ممانعت کا سبب بدبو ہے۔ اگر زیادہ پکانے وغیرہ کی وجہ سے بدبو دور ہو جائے، تو کراہت دور ہو جائے گی۔
- جس شخص کو مسجد میں آکر نماز پڑھنا ہو اس کے لیے ان چیزوں کو کھانا مکروہ ہے، تاکہ مسجد میں نماز با جماعت فوت نہ ہو۔ البتہ اگر حاضر نہ ہونے کے لیے حیلہ کے طور پر یہ چیزیں کھائے، تو اس کے حق میں ان چیزوں کا کھانا حرام ہوگا۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان چیزوں کو کھانے سے گریز اس لیے نہیں کرتے تھے کہ یہ چیزیں حرام ہيں۔ گریز اس لیے کرتے تھے کہ آپ جبریل علیہ السلام سے بات کیا کرتے تھے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمدہ طرز تعلیم کہ آپ نے حکم کے ساتھ اس کی وجہ بھی بیان فرمائی، تاکہ حکمت سمجھ کر مخاطب کے اندر اطمینان پیدا ہوجائے۔
- قاضی کہتے ہيں : علما نے نماز پڑھنے کی دیگر جگہوں، جیسے عیدگاہ اور جنازہ گاہ وغیرہ جیسی عبادت کی اجتماعی جگہوں کو بھی اسی پر قیاس کیا ہے۔ اسی طرح علم، ذکر اور ولیمے کی مجلسوں کو بھی اسی پر قیاس کیا جائے گا۔ لیکن بازاروں وغیرہ کو نہيں۔
- علما نے کہا : یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ لہسن وغیرہ کھانے والے کو خالی مسجد میں داخل ہونے سے بھی روکا جائے گا۔ کیوں کہ مسجد میں فرشتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی عموم حدیث کا تقاضہ بھی یہی ہے۔
تشریح: العربية
نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم مَن أَكلَ ثومًا أو بَصلًا أن يأتي المسجد، حتى لا يؤذيَ إخوانَه ممن يحضرون صلاة الجماعة بريحهما، وهو نهيُ تنزيهٍ عن إتيان المسجد، لا عن أكلِهما؛ لأنهما من الأطعمة المباحة، وقد أُتيَ صلى الله عليه وسلم بِقِدْرٍ فيه خضروات، فلما شمَّ فيها ريحًا وأُخبِر بما فيها امتنع مِن أكلِها وقَرَّبها إلى بعض أصحابه ليأكل منها، فكره الأكل اقتداء به، فلما رآه صلى الله عليه وسلم قال: كُلْ؛ فإني أناجي الملائكة بالوحي. وأَخبرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أن الملائكة تتأذّى من الروائح الكريهة، كما يتأذى الناس منها.
- النهي عن إتيان المساجد لمن أكل ثومًا، أو بصلًا، أو كراثًا.
- يلحق بهذه الأشياء، كلّ ذي رائحة كريهة يتأذى منها المصلون، كرائحة الدُّخان والتَّبْغِ ونحو ذلك.
- علة المنع الرائحة، فإذا زالت بكثرة الطبخ أو بغير ذلك؛ زالت الكراهة.
- كراهة أكل هذه الأشياء لمن عليه حضور الصلاة في المسجد؛ لئلا تفوته الجماعة في المسجد، ما لم يأكلها حيلة على إسقاط الحضور، فيحرم.
- امتناع النبي صلى الله عليه وسلم عن أكل الثوم ونحوه، ليس لتحريمه، وإنما لمناجاته جبريل عليه السلام.
- حسن تعليم النبي صلى الله عليه وسلم، حيث يَقرُن الحكم ببيان سببه؛ ليطمئن المخاطَب بمعرفة الحكمة.
- قال القاضي: وقاس العلماء على هذا مجامع الصلاة غير المسجد كمصلّى العيد والجنائز ونحوها من مجامع العبادات، وكذا مجامع العلم والذكر والولائم ونحوها، ولا يلتحق بها الأسواق ونحوها.
- قال العلماء: وفي هذا الحديث دليل على منع آكل الثوم ونحوه من دخول المسجد -وإن كان خاليًا- لأنه مَحلُّ الملائكة، ولعموم الأحاديث.