ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- يقُولُ في بيتي هَذَا: «اللهم من وَلِيَ من أمر أمتي شيئًا فَشَقَّ عليهم، فَاشْقُقْ عليه، ومن وَلِيَ من أمر أمتي شيئًا فَرَفَقَ بهم، فَارْفُقْ به».
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا بيان کرتی ہيں کہ ميں نے رسول اللہ ﷺ كو اپنے اس گھر ميں فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! جو شخص بهى میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس پر سختی فرما، اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر وہ ان کے ساتھ نرمی کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما“۔
تشریح
اس حديث ميں حکمرانی و فرمانروائی اور اقتدار و ذمہ داری سنبھالنے کے معاملے کی اہميت و سنگینی کا بيان ہے۔ نبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ جو شخص لوگوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے تو اللہ تعالی بھی اس کے ساتھ ويسا ہی معاملہ کرے، اور جو لوگوں کے ساتھ عدل وانصاف ،نرمی اور رحم دلی کا معاملہ کرے، اللہ تعالی اسے اس پر (اچھا) بدلہ دے، اور بدلہ عمل ہی کے جنس سے ملتا ہے۔
تشریح: العربية
في هذا الحديث بيان عظم أمر الولاية، وقد دعا النبي صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن ولي مِن أمر الناس شيئاً فضيَّق عليهم أن يعامله الله بالمثل، ومن عاملهم بالعدل والانصاف والرحمة واللين أن يجازيه على ذلك، والجزاء من جنس العمل.
- اهتمام النبي -صلى الله عليه وسلم- بأمور أمته.
- التنبيه لولاة الأمور على السعي في مصالح الرعية.
- إذا شق الحاكم على أمته أوقعه الله في المشاق.
- أنَّ أسلوب الترغيب والترهيب من أساليب الدعوة النافعة.