ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس رضي الله عنه قَالَ: كُنْتُ أمشي مَعَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ بُرْد نَجْرَانيٌّ غَلِيظُ الحَاشِيَةِ، فأدْرَكَهُ أعْرَابِي فَجَبذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَة شَديدة، فَنَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَة الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِه، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مُر لِي مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي عِنْدَكَ. فَالتَفَتَ إِلَيْهِ، فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا،آپ ﷺ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادرتھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی پیچھے سے آیا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر کھینچی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے شانے کو دیکھا کہ اس شخص کے زورسے کھینچنے کی وجہ سے اس پر چادر کے کناروں سے نشان پڑ گئے تھے۔اس نے کہا کہ: اے محمد! اللہ کا جو مال تیرے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم کرو۔ اس پر آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے، پھر آپ ﷺ نے اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔
تشریح
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی یعنی ایسا کپڑا جس کے کنارے دھاری دار ہوں۔ نجرانی یعنی نجران کی طرف منسوب جو یمن کا ایک شہر ہے۔ موٹے کنارے والیظ، جسے ایک اعرابی نے پیچھے سے آ کر اسے کھینچا۔ یعنی اعرابی نے آپ ﷺ کی چادر سے پکڑ کر آپ ﷺ کو زور سے کھینچا۔ ”صفحة عاتق“ اس سے مراد شانے کی جگہ ہے۔ آپ ﷺ کے شانے پر (زور سے کھینچے کی وجہ سے ) چادر کے کنارے سے نشان پڑ گیا۔ پھر اس اعرابی نے کہا ”اے محمد!“ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مؤلفۃ القلوب میں سے تھا اسی وجہ سے اس نے ایسا کیا۔ پھر اس نے شفقت و مہربانی کے پیکر کے مقابلے میں درشتگی کے ساتھ آپ ﷺ کو آپ کے نام کے ساتھ پکارتے ہوئے کہا: ”مُرْ لِي“ یعنی اپنے کارندوں کو کہو کہ وہ مجھے مال دیں یا مجھے دینے کا حکم دو۔ ”اللہ کے اس مال سے جو تیرے پاس ہے“ یعنی جسے دینے میں تیرا کوئی ہاتھ نہیں۔ جیسا کہ ایک اور روایت میں اس کی صراحت ہے کہ اس نے کہا: ”نہ اپنے مال سے اور نہ اپنے باپ کے مال سے“۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ کا مال تھا جس کا کچھ حصہ آپ ﷺ ان لوگوں پر خرچ کرتے جن کی تالیف قلبی مقصود ہوتی۔ آپ ﷺ نے تعجب کے ساتھ اسے دیکھا۔ اور پھر آپ ﷺ اظہار شفقت کے طور پر مسکرا دیے اور اسے کچھ مال دینے کا حکم دیا۔
تشریح: العربية
أخبر أنس رضي الله عنه فقال: (كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه برد) أي: ثوب مخطط (نجراني): أي منسوب إلى نجران بلد باليمن، (غليظ الحاشية) أي: الطرف (فأدركه أعرابي) أي لحقه (فجبذه) أي: فجذب الأعرابي النبي صلى الله عليه وسلم "بردائه جبذة شديدة". قال أنس: فنظرت إلى صفحة عاتق رسول الله صلى الله عليه وسلم): وهو موضع من المنكب (قد أثرت بها) أي: في صفحته. (حاشية الرداء من شدة جبذته) ثم قال الأعرابي:( يا محمد)! والظاهر أنه كان من المؤلفة، فلذلك فعل ما فعله، ثم خاطبه باسمه قائلا على وجه العنف مقابلاً لبحر اللطف (مر لي) أي: مر وكلاءك بأن يعطوا لي أو مر بالعطاء لأجلي (من مال الله الذي عندك) أي من غير صنيع لك في إعطائك، كما صرح في رواية حيث قال: "لا من مالك ولا من مال أبيك". قيل: المراد به مال الزكاة، فإنه كان يصرف بعضه إلى المؤلفة، (فالتفت إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم) فنظر إليه تعجبا (فضحك) أي تلطفا (ثم أمر له بعطاء).
- غلظة الأعراب وجلافتهم في المعاملة.
- مزيد حسن خلقه صلى الله عليه وسلم وصبره على سوء أدب هذا الأعرابي.
- استحباب مقابلة الإساءة بالإحسان، وعدم مقابلة الإساءة بمثلها.
- يجب على الداعية أن يوطن نفسه على تحمل مثل هذه المكاره.
- يستحب للداعي أن يطيب قلب المخطئ ولا يعنفه؛ لأن ذلك أنفع في نصحه، وأرجى لرجوعه إلى الحق.
- بيان أن الأنبياء أشد الناس بلاء وابتلاء ثم أتباعهم الأمثل فالأمثل.
- وجوب الصبر وتحمل الأذى في سبيل الله.
- استحباب مقابلة الإساءة بالإحسان.
- كمال خلق النبي صلى الله عليه وسلم.