حدیث

وہ جہنم میں ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے گئے تو انہیں اس کے ہاں ایک چادر ملی جو اس نے (مال غنیمت سے) چرائی تھی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: كان على ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ يُقالُ له كِرْكِرَةٌ، فماتَ، فقال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «هو في النَّارِ». فذهبوا ينظرونَ إليهِ، فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا

ترجمہ

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامان پر ایک شخص متعین تھا جسے کِرْکِرہ کہا جاتا تھا۔ وہ مر گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:وہ جہنم میں ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے گئے تو انہیں اس کے ہاں ایک چادر ملی جو اس نے (مال غنیمت سے) چرائی تھی۔

تشریح

نبی ﷺ کے سامان کا ایک شخص ذمہ دار تھا جس کا نام کِرْکِرہ تھا۔ وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ وہ جہنم میں گیا ہے اور اسے اس کے گناہ پر عذاب دیا جا رہا ہے اور اگر اللہ نے اسے معاف نہ کیا تو وہ جہنم ہی میں رہے گا۔ اس پر صحابہ کرام اس کے جہنم میں جانے کا سبب جاننے کے لیے اس کے ٹھکانے کی طرف گئے تو انہیں اس کے پاس سے ایک چادر برآمد ہوئی جسے اس نے مال غنیمت میں سے چرایا تھا۔

تشریح: العربية

كان المسؤول عن أمتعة النبي صلى الله عليه وسلم رجل اسمه كركرة فمات؛ فأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه في النار يعذب على معصيته، أو أنه في النار إن لم يعف الله عنه، فذهب الصحابة يبحثون عن السبب في ذلك؛ فوجدوا عباءة قد سرقها من الغنيمة.

  • الخيانة في الأموال العامة من الكبائر التي يعاقب مرتكبها في النار.
  • تحريم قليل الغلول وكثيره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید