ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار». وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إِزْرَة المسلم إلى نصف الساق، ولا حرج -أو لا جُناح- فيما بينه وبين الكعبين، فما كان أسفل من الكعبين فهو في النار، ومن جر إزاره بطَرا لم ينظر الله إليه».
ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تہبند ﮐﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﭨﺨﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮦ ﺍٓﮒ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے اگر اُس نے پنڈلی کے نصف اور ٹخنوں کے درمیان تک اسے رکھا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں یا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اُس میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہو گا۔ اور جو شخص اپنی ازار کو ازراہ تکبر گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ تعالی دیکھے گا بھی نہیں۔
تشریح
مومن کے ازار باندھنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ کپڑا نصف پنڈلی تک آئے۔ تاہم اگر مومن اپنے کپڑے کو نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان تک ڈھیلا کر لے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے تاہم جو حصہ پاؤں کے ٹخنوں سے نیچے ہو گا اور جس پر ازار لٹک رہی ہو گی اسے کپڑا لٹکانے کی وجہ سے عذاب ہو گا۔ اور جو شخص پے درپے ہونے والی اللہ کی نعمتوں پر اپنے کپڑے کو ازراہ تکبر و سرکشی گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ قیامت کے دن آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔
تشریح: العربية
الهيئة المستحبة في اتزار المؤمن أن يكون الثوب إلى نصف الساق، ولا حرج على المؤمن إذا أرخى ثوبه فيما بين نصف الساق والكعبين، وما كان أسفل الكعبين من القدم ويعلوه الإزار فإنه يعذب عقوبة لإسباله ثوبه، ومن جر ثوبه تكبرا وطغيانا عند تتابع نِعم الله عز وجل عليه لم ينظر الله له يوم القيامة.
- النهي عن إسبال الإزار عند عدم العذر.
- ما دون الكعب من القدم يعذب عقوبة لإسبال صاحبه ثوبه، ولا يستخف أحد بذلك فأهون أهل النار عذابًا رجل توضع جمرة في أسفل قدمه تغلي منها دماغه.
- الترهيب من الكبر والعُجب.