حدیث

مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى».

ترجمہ

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا ہے کہ خیرخواہی، رحمت، آپسی تعاون، مدد اور نقصان سے ہونے والی اذیت کے احساس کے معاملے میں مسلمانوں کا حال ایک جسم کے جیسا ہونا چاہیے کہ جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ پورا جسم رات جاگتا ہے اور بخار کا شکار رہتا ہے۔

فوائد

  • مسلمانوں کے حقوق کو اہمیت دینی چاہیے اور ان کو ایک دوسرے کا تعاون کرنے اور ایک دوسرے کے تئیں نرم پہلو اختیار كرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
  • اہل ایمان کے درمیان آپسی محبت اور باہمی نصرت کی فضا ہموار ہونی چاہیے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّه يَجبُ أنْ تكونَ حالُ المسلمين بعضهم مع بعض من محبة الخير والرحمة والمساعدة والنصرة، والتأذِّي بما يحصل لهم من الضرر، كمثل الجسد الواحد، إذا مرض منه عضو، تفاعل معه الجسدُ كلُّه بالسهر والحُمّى.

  • ينبغي تعظيمُ حقوق المسلمين والحضُّ على تعاونهم وملاطفة بعضهم بعضًا.
  • ينبغي أن يكونَ بين أهلِ الإيمان المحبة والنصرة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید