حدیث

نبی ﷺ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک شخص آیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا:اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی؟ اس نے جواب دیا:نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعت پڑھ لو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن جابِر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: «جاء رجل والنبي صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ الناس يوم الجمعة، فقال: صليت يا فلان؟ قال: لا، قال: قم فاركع ركعتين، -وفي رواية: فصل ركعتين-».

ترجمہ

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک شخص آیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی؟ اس نے جواب دیا:نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعت پڑھ لو۔

تشریح

سُلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے جب کہ نبی ﷺ لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ خطبہ سننے کے لئے بیٹھ گئے اور تحیۃ المسجد کی نماز نہ پڑھی؛ یا تو اس وجہ سے کہ وہ اس کے حکم سے واقف نہیں تھے یا پھر اس لئے کہ ان کے گمان میں خطبہ سننا زیادہ اہم تھا۔ نبیﷺ اگرچہ وعظ و نصیحت اور خطبہ دینے میں مصروف تھے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ انہیں تعلیم دینے سے نہ رکے بلکہ آپ ﷺ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے فلاں! کیا میرے دیکھنے سے پہلے تم نے مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ: نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت نماز پڑھو۔ مسلم شریف کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ: آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ یہ دو رکعتیں ہلکی پڑھیں۔ آپ ﷺ نے ایک بڑے مجمع کے سامنے یہ کہا تھا تاکہ اس آدمی کو ضرورت کے وقت تعلیم دیں، اور تا کہ یہ تعلیم سب حاضرین کے لئے ہو جائے۔ لہذا جو شخص مسجد میں آئے اور خطیب خطبہ دے رہا ہو تو اس کے لئے مشروع یہ ہے کہ وہ تحیۃ المسجد کی نماز پڑھے۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے اور اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ: تم میں سے جب کوئی جمعہ کے دن (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے۔ اسی لئے علامہ نووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی شرح میں آپ ﷺ کے اس فرمان:" تم میں سے جب کوئی جمعہ کے دن (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ دو رکعت مختصرپڑھ لے۔" فرمایا کہ: یہ نص ہے جس میں تاویل کا کوئی راستہ نہیں۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسا عالم بھی ہو گا جس کے پاس یہ الفاظ پہنچیں اور وہ ان کوصحیح جانے اور پھر بھی ان کی مخالفت کرے۔

تشریح: العربية

دخل سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ المسجد النبوي والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب الناس، فجلس ليسمع الخطبة، ولم يصل تحية المسجد؛ إما لجهله بحكمها، أو ظنه أن استماع الخطبة أهم، فما منع النبي صلى الله عليه وسلم تذكيره واشتغاله بالخطبة عن تعليمه، بل خاطبه بقوله: أصليت يا فلان في طرف المسجد قبل أن أراك؟ قال: لا، فقال: قم فاركع ركعتين، وفي رواية لمسلم أمره أن يتجوز فيهما أي: يخففهما، قال ذلك بمشهد عظيم؛ ليُعَلِّمَ الرجل في وقت الحاجة، وليكون التعليم عامًّا مشاعاً بين الحاضرين. ومن دخل المسجد والخطيب يخطب المشروع له الصلاة، ويدل عليه هذا الحديث، وبحديث: "إذا جاء أحدكم يوم الجمعة والإمام يخطب، فليركع ركعتين". ولذا قال النووي في شرح مسلم عند قوله صلى الله عليه وسلم : "إذا جاء أحدكم والإمام يخطب فليركع ركعتين وليتجوز فيهما" قال: هذا نص لا يتطرق إليه تأويل، ولا أظن عالما يبلغه هذا اللفظ ويعتقده صحيحا فيخالفه.

  • مشروعية خطبتَي الجمعة، وأن هذا من شعارها الذي يلزم الإتيان به.
  • أهمية تحية المسجد؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- قطع خطبته وأمر بهما، ومع انشغال المصلي بهما عن سماع الخطبة.
  • جواز الكلام حال الخطبة للخطيب، ومن يخاطبه للحاجة والمصلحة.
  • أن النبي -صلى الله عليه وسلم- لا يسكت عن خطأ يراه في أي حال.
  • أن الجلوس الخفيف لا يذهب وقتها وسنيتها؛ لأن الرجل جلس، فأمره النبي -صلى الله عليه وسلم- أن يقوم ويصلي، ولكن يكون فعلها قبل الجلوس أداءً وبعده قضاء.
  • مشروعية تحية المسجد وتأكُّدُها، وأنها ركعتان.
  • أن لا يزيد في الصلاة على ركعتين؛ لأنه لابد من الإنصات للخطيب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید