ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها قالت: «من كلِّ الليل أَوْتَرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم : من أول الليل، وأوسطه، وآخره، وانتهى وِتْرُهُ إلى السَّحَرِ».
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں نمازِ وتر پڑھی ہے۔ رات کے ابتدائی حصہ میں بھی، درمیان میں بھی اور آخر میں بھی اور آپ ﷺ کی وتر سحر تک ختم ہوجاتی۔
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا وتر پڑھنے کے حوالے سے رسول اللہﷺ کے بارے میں بتا رہی ہیں کہ آپ رات کو وتر کس وقت پڑھتے تھے۔ وتر پڑھنے میں آپ ﷺ نے کوئی وقت خاص نہیں مقرر کیا تھا بلکہ رات کے پورے حصہ میں وتر پڑھتے تھے۔ کبھی رات کے شروع میں عشاء کی نماز کے بعد اور کبھی اس وقت کے جب اللہ تعالی چاہتا، اور کبھی رات کے درمیانی حصے میں جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر چکا ہوتا اور کبھی رات کے آخری حصہ میں پڑھتے جب رات دو تہائی گزر چکی ہوتی حتیٰ کہ رات کے بالکل آخری حصے تک چلے جاتے۔
تشریح: العربية
تخبر عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها عن الوقت الذي كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الوتر فيه من الليل، وأنه لا يتقيد بساعة دون أخرى، ففي كل ساعات الليل كان يوتر، أحيانا من أوله حين يصلي العشاء وما شاء الله بعدها، وأحيانا من أوسطه بعد مُضِي ثلثه الأول، وأحيانا من آخره حين يمضي ثلثاه حتى تكون آخر ساعة من الليل.
- جواز صلاة الوِتْر في أول الليل، وأوسطه، وآخره، لأن الجميع وقتها.
- أن الأفضل أن يكون وِتْر في آخر الليل، لمن وثق من نفسه بالقيام.
- الوِتْر من صلاة العشاء إلى طلوع الفجر.