حدیث

جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اُسے روکے۔ کیوں کہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اُسے روکے۔ کیوں کہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی جانب رہنمائی کی کہ جسے جمائی آئے اور وہ سستی یا شکم سیری وغیرہ کی وجہ سے اپنا منہ کھولے، وہ اپنا ہاتھ منہ پر رکھ کر اسے بند کر لے۔ ایسا اس لیے کہ منہ کھلا چھوڑ دینے پر شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے اور ہاتھ رکھ دینے کے بعد اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہ جاتا۔

فوائد

  • جسے جمائی آئے وہ جہاں تک ہو سکے روکنے کی کوشش کرے، اپنے منہ کو بند رکھے اور کھلنے نہ دے۔ لیکن اگر بند نہ رکھ سکے، تو منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے اور اسے اپنے ہاتھ سے ڈھانپ دے۔
  • ہر حال میں اسلامی آدب کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے، کیوں کہ یہ کمال اور اخلاق مندی کی علامت ہے۔
  • انسان کے اندر شیطان کے داخل ہونے کے تمام راستوں کے بارے میں خبردار رہنا چاہیے۔
تشریح: العربية

أَرْشَدَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مَن تَثاءبَ بأن فتح فمه بسبب الكسل أو الامتلاء ونحو ذلك؛ بأنْ يضع يدَه على فَمِه فيُغْلِقه بها؛ وذلك لأن الشيطان يدخل فيه إذا تركه مفتوحًا، فوَضْعُ اليد يكون مانعًا من دخوله.

  • إذا أراد الإنسان أن يتثاءب فعليه أنْ يَكْظِمَ ما استطاع، بأنْ يُمْسِكَ على فِيه، فيُبقيه مُغلقًا بحيث لا ينفتح، فإن لم يستطع إبقاء فمِهِ مغلقًا فليضع يدَه على فيه، فيُغَطِّي فاه بيده.
  • التزام آداب الإسلام في جميع الحالات؛ لأنها عنوان الكمال والأخلاق.
  • الحذر من كل مَدَاخِل الشيطان على الإنسان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید