حدیث

نبی ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما عیدین کی نمازیں خطبے سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عُمر رضي الله عنهما قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعُمر يصلون العيدين قبل الخُطْبة».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما عیدین کی نمازیں خطبے سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔

تشریح

نبی ﷺ اور آپ کے خلفاء راشدین کا معمول یہ تھا کہ وہ لوگوں کو عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز پڑھاتے اور خطبہ دیتے اور نماز کو خطبہ پر مقدم رکھتے۔ یہ عمل اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ مروان نے اپنے دور حکومت میں آکر نماز سے پہلا خطبہ دیا۔ سنت کی خلاف ورزی پر لوگوں نے ان پر نکیر کی لیکن بنو امیہ اسی طریقہ پر باقی رہے پھر جب بنو عباس حکومت میں آئے تو انہوں نے (نبیﷺ کی) سنت کو دوبارہ شروع کردیا۔

تشریح: العربية

كان من عادة النبي صلى الله عليه وسلم وخلفائه الراشدين، أن يصلوا بالناس صلاة العيد، في الفطر والأضحى، ويخطبوا، ويقدموا الصلاة على الخطبة، وقد استمر العمل على ذلك حتى جاء مروان فخرج وخطب قبل الصلاة، وانكر عليه الناس مخالفة السنة، واستمر بنو أمية على ذلك ثم أعاد بنو العباس السنة.

  • تقديم الصلاة على الخطبتين.
  • مشروعية صلاة العيدين والخطبة لها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید