حدیث

”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبْدَؤوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہود و نصاری کو سلام کرنے میں پہل کرنے سے منع فرما رہے ہیں۔ خواہ وہ ذمی ہی کیوں نہ ہوں۔ دیگر کفار کو تو جانے ہی دیجیے۔ آپ نے بتایا ہے کہ جب راستے میں کسی یہودی یا عیسائی سے ہمارا سامنا ہو جائے، تو ہم اسے راستے کے تنگ ترین حصے کی جانب جانے پر مجبور کریں۔ بیچ راستے سے مومن چلے گا اور کافر کنارے کنارے چلے گا۔ ایک مومن کسی بھی حال میں رسوا نہیں ہوگا۔

فوائد

  • ایک مسلمان کے لیے کسی یہودی، عیسائی یا کسی دوسرے کافر کو سلام کرنے میں پہل کرنا جائز نہيں ہے۔
  • اگر وہ سلام کر دیں، تو ان کا جواب "و علیکم" کہہ کر دینا جائز ہے۔
  • کسی مسلمان کے لیے جان بوجھ کر کسی کافر کو بلا وجہ اذیت دینا کہ اس کا راستہ تنگ کر دے، جائز نہيں ہے۔ لیکن اگر راستہ تنگ ہو یا بھیڑ بھاڑ ہو، تو اس میں چلنے کا حق مسلمان کا زیادہ ہے۔ ایسے میں کافر کنارے ہو جائے گا۔
  • ظلم یا بد زبانی کے بغیر مسلمانوں کی عزت اور دوسروں کی ذلت کا اظہار۔
  • اللہ کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے کافروں پر تنگی کرنا‘ ہو سکتا ہے کہ ان کے مسلمان ہونے کا سبب بن جائے۔ چنانچہ وہ سبب سے واقف ہونے کے بعد جہنم سے نجات پا جائيں۔
  • ضرورت ہو تو پہل کرکے کسی کافر سے یہ سوالات پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ کیسے ہیں، آپ کی صبح کیسی رہی، آپ کی شام کیسی رہی‘ کیوں کہ منع صرف سلام کرنے سے کیا گیا ہے۔
  • طیبی کہتے ہیں: اختیار کردہ مسئلہ یہ ہے کہ بدعتی کو بھی سلام کرنے میں پہل نہ کیا جائے۔ اگر کسی نے ایسے شخص کو سلام کر دیا، جسے پہچانتا نہ ہو اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ ذمی یا بدعتی ہے، تو اس کی تحقیر کے لیے کہہ دے کہ میں نے سلام واپس لے لیا۔
تشریح: العربية

يَنْهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن بَدْءِ اليهودِ والنصارى بالسلام ولو كانوا ذِمِّيِّيْن، فضلًا عن غيرهم من الكفار، وبَيَّن صلى الله عليه وسلم أننا إذا لقينا أحدَهم في طريق فنَضْطَرّه إلى أَضيَق الطريق، فالمؤمن هو الذي يَمشي في وسط الطريق، والذي يَتَنَحَّى هو الكافر، ولا يكون المسلم ذليلًا بحال من الأحوال.

  • لا يجوز للمسلم أن يبتدئ أحدًا من اليهود والنصارى وغيرهم من الكفار بالسلام.
  • يجوز رد السلام عليهم إنْ هم بَدؤوا بالسلام بأن يقول: وعليكم.
  • لا يجوز للمسلم أنْ يَتَقَصَّدَ أَذيّة الكافر بأن يُضَيِّقَ عليه قصدًا من غير موجب؛ ليضطره إلى أضيق الطريق؛ لكن إن كان الطريق ضيقًا أو مزدحمًا فالمسلم أحق به، والكافر يَتَنَحّى عنه.
  • إظهار عزة المسلمين وصَغَار غيرهم، دون ظلم أو بَذَاءة في القول.
  • التضييق على الكفار بسبب ما هم عليه من كفر بالله تعالى، قد يكون ذلك سببًا في إسلامهم؛ فينجوا من النار، إذا حملهم ذلك على معرفة السبب.
  • لا بأس أن يقول المسلم للكافر ابتداءً كيف حالُك، كيف أصبحتَ، كيف أمسيتَ؟ ونحو ذلك إذا دعت الحاجة إلى ذلك؛ لأن النهي محمول على السلام.
  • قال الطيبي: المُختار أنَّ المُبتدع لا يُبدأ بالسلام، ولو سلَّم على مَن لا يعرفه فظهر ذِميًّا أو مبتدعًا يقول: استرجعت سلامي تحقيرًا له.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید