ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاَءَ».
ترجمہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا، جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھمنڈ کے طور پر کپڑے یا ازار کو ٹخنوں کے نیچے لٹکائے رکھنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایسا کرنے والا اس شدید وعید کا حق دار ہے کہ اللہ قیامت کی دن اس پر رحمت کی نظر نہیں ڈالے گا۔
فوائد
- حدیث میں وارد لفظ "ثوب" (کپڑے) کے اندر پاجامہ اور لنگی وغیرہ وہ سارے کپڑے داخل ہیں، جو بدن کے نچلے حصے کو ڈھانپتے ہیں۔
- (ٹخنے سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی ممانعت مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ نووی کہتے ہیں: عورتوں کے لیے کپڑا لٹکانے کے جواز پر علما کا اجماع ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح حدیث میں انھیں ایک ہاتھ کپڑا لٹکانے کی اجازت دی گئی ہے۔
- ابن باز کہتے ہیں: مردوں کے لیے کپڑا لٹکا کر پہننا عام احادیث کی بنا پر ممنوع وحرام ہے۔ لیکن اس کی سزا ایک جیسی ہو یہ ضروری نہيں ہے۔ الگ الگ بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ تکبر کے ساتھ لٹکانے والا تکبر کے بغیر لٹکانے والے کی طرح نہیں ہے۔
- ابن باز کہتے ہيں: عورت کے پورے جسم کو چھپانا ضروری ہے۔ لہذا اس کے لیے ایک بالشت لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر اتنا کافی نہ ہو، تو ٹخنوں کے نیچے ایک ہاتھ لٹکائے گی۔
- قاضی کہتے ہیں: علما نے کہا: خلاصۂ کلام یہ کہ لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے ضرورت اور عادت سے زیادہ ہر لباس ناپسندیدہ ہے۔ واللہ اعلم
- نووی کہتے ہيں: ویسے تو قمیص اور لنگی کے کنارے کو نصف پنڈلی پر رکھنا مستحب ہے۔ لیکن پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان کہیں بھی رکھنے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ اگر اس سے نیچے رکھا جاتا ہے تو جسم کا وہ حصہ آگ میں داخل ہوگا۔ اس طرح آدھی پنڈلی پر رکھنا مستحب اور اس سے نیچے ٹخنوں تک رکھنا بلا کراہت جائز ہے۔ جب کہ ٹخنوں کے نیچے اتارنا ممنوع ہے۔
- ابن عثیمین کہتے ہيں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ "لا ينظر الله إليه" کے معنی ہیں: رحمت و رافت کی نظر سے نہيں دیکھے گا۔ یہاں مراد عام نظر نہیں ہے۔ کیوں کہ اللہ سے نہ کوئی چيز مخفی رہتی ہے اور نہ اس کی نظر سے کچھ اوجھل رہتا ہے۔ یہاں مراد بس رحمت و رافت کی نظر سے دیکھنا ہے۔
تشریح: العربية
حَذَّرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مِن إِرْخَاءِ الثوب أو الإزَارِ أَسفل الكعبين عُجبًا وكبرًا، وأنّ مَن فعل ذلك كان مُستحِقًّا للوعيد الشديد بأن لا ينظر الله إليه يوم القيامة نَظَرَ رَحمة.
- الثوب يَشمل كلَّ ما يَستُر أسفل البدن من سروال وثوب وإزار وغيرها.
- النهي عن الإسبال خاصٌّ بالرجال، قال النووي: وأجمع العلماء على جواز الإسبال للنساء، وقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم الإذنُ لهنَّ في إرخاء ذُيُولِهنّ ذراعًا.
- قال ابن باز: الإسبال ممنوع ومحرم لعموم الأحاديث، وأما العقوبة فهي متفاوتة ولا يلزم أن تكون مُتساوية، فإنه ليس مَن قَصَدَ الخيلاء كمن لم يَقصد.
- قال ابن باز: المرأة عورة فلا مانع من إرخائها شِبْرًا، فإن لم يَكفِها أَرْخَتْ ذِراعًا ابتداءً من الكَعْب.
- قال القاضي: قال العلماء: وبالجملة يكره كل ما زاد على الحاجة والمعتاد في اللباس من الطول والسعة، والله أعلم.
- قال النووي: القَدْر المستحب فيما يَنزل إليه طرف القميص والإزار فنصف الساقين، ولا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين، وما أسفل من ذلك فهو في النار، فالمستحب نصف الساقين، والجائز بلا كراهة ما تحته إلى الكعبين، فما نزل عن الكعبين فهو ممنوع.
- قال ابن عثيمين على قوله: (لا ينظر الله إليه) أي نَظَرَ رَحمةٍ ورَأْفَة، وليس المراد به: النظر العام؛ لأن الله سبحانه وتعالى لا يخفى عليه شيء ولا يغيب عن بصره شيء، لكن المراد نظر الرحمة والرأفة.