ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ».
ترجمہ
ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ قیامت کے دن مومن کے میزان میں اقوال و اعمال میں سب سے وزنی چيز ہوگی، حسن اخلاق۔ یاد رہے کہ حسن خلق نام ہے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنے، اذیت رسانی سے بچنے اور بھلا کرنے کا۔ اللہ تعلی برے عمل اور برے قول والے اور بدزبانی سے کام لینے والے انسان سے نفرت کرتا ہے۔
فوائد
- حسن اخلاق کی فضیلت، کیوں کہ حسن اخلاق سے انسان کو اللہ اور اس کے بندوں کی محبت حاصل ہوتی ہے۔ حسن اخلاق قیامت کے دن وزن کی جانے والی سب سے عظیم چيز ہوگی۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ أَثقلَ ما في مِيْزانِ المؤمنِ يوم القيامة من الأعمالِ والأقوالِ هو حُسْنُ الخُلُق، وذلك بِبَسْطِ الوَجْه، وكفِّ الأذى، وبذلِ المعروف. والله تعالى يُبْغِضُ القبيحَ في فِعْلِه وقَوْلِه، البَذيءَ فيما يَنْطِقُ بِهِ لسانُه.
- فضيلة حسن الخلق؛ لأَنه يُوْرِثُ لصاحبِهِ مَحبةَ الله، ومحبةَ عبادِه، وهو أعظمُ ما يُوْزَنُ يومَ القيامة.