ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من الكبائر شَتْمُ الرجل والديه» قيل: وهل يسبّ الرجل والديه؟ قال: «نعم، يسبّ أبا الرجل فيسبّ أباه، ويسبّ أمّه، فيسبّ أمّه».
ترجمہ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے“۔ دریافت کیا گیا کہ بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! آدمی کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ماں باپ کا حق بڑا عظیم ہے اور ان کی اذیت و سب و شتم کا باعث بننا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ پھر جب ان کے سب و شتم کے سبب بننے کا یہ حال ہے، تو بلا واسطہ ان کی دشنام طرازی اور لعنت و ملامت کتنا بڑا گناہ ہے، اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ جب اس بات کی خبر دی گئی کہ والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، تو وہاں موجود لوگوں نے تعجب کا اظہار کیا؛ کیوں کہ آدمی کا اپنے والدین کو بالواسطہ گالی دینا عقل سے بعد تر بات ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے بتایا کہ یہ کبھی کبھی ان کی دشنام طرازی کا سبب بننے کی وجہ سے واقع ہوتا ہے کہ جب آدمی کسی کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے، تو بدلے میں وہ بھی اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔
تشریح: العربية
الحديث دليل على عظم حق الأبوين، وأن التسبب إلى أذيتهما وشتمهما من كبائر الذنوب، وإذا كان هذا في التسبب إلى شتمهما ولعنهما فإن لعنهما مباشرة أقبح. فبعد أن أخبر أن شتمهما من الكبائر تعجب الحاضرون من ذلك، لأنه بعيدٌ عن أذهانهم أن يسب الرجل والديه مباشرة، فأخبرهم أن ذلك قد يقع عن طريق التسبب في شتمهما، حين يشتم أبا الرجل وأمه فيسب الرجل أباه وأمه.
- الواجب على الإنسان الكف عن سب الناس، وسب آبائهم؛ لأنه من الكلام المحرم، ولأنه سبب يؤدي إلى سب أبيه وأمه فيكون عاقًّا لهما بذلك.
- المتسبب يشارك المباشر في عمله في الخير والشر.
- شتم الرجل أباه وأمه من كبائر الذنوب.
- الدلالة على قاعدتين من قواعد الشريعة: الأولى: قاعدة سد الذرائع، فما كان ذريعة ووسيلة إلى محرم فهو محرم. الثانية: قاعدة الوسائل لها أحكام المقاصد.