حدیث

وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الخُدُودَ، وَشَقَّ الجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ».

ترجمہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دور جاہلیت والوں کے کچھ افعال سے منع اور خبردار کیا ہے۔ فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے: 1- جو رخسار پیٹے۔ آپ نے بطور خاص رخسار پیٹنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس طرح کے موقعوں پر عام طور سے رخسار ہی پیٹا جاتا ہے۔ ورنہ چہرے کے باقی حصے کو پیٹنا بھی ممانعت میں داخل ہے۔ 2- جس نے جزع فزع کرتے ہوئے گریبان پھاڑا۔ 3- دور جاہلیت کے لوگوں کی بول بولے۔ مثلا ہائے ہائے اور بربادى کا الاپ لگائے, نوحہ اور ماتم وغیرہ کرے۔

فوائد

  • اس حدیث میں وارد وعید بتاتی ہے کہ یہ اعمال کبیرہ گناہوں میں داخل ہيں۔
  • مصیبت کے وقت صبر کرنا واجب ہے۔ اور اللہ کی تکلیف دہ تقدیر پر ناراض ہونا اور نوحہ وماتم یا سر منڈواکریا گریبان پھاڑ کر یا اس طرح کا کوئى اور کام کرکے اللہ کى تقدیر سے ناراضگى کا اظہار کرنا حرام ہے۔
  • دور جاہلیت کے ان کاموں کی تقلید کرنا حرام ہے، جنھیں شریعت نے برقرار نہیں رکھا ہے۔
  • غمزدہ ہونے اور رونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالی کے فیصلے پر صبر کرنے کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ رحمت ہے، جسے اللہ نے رشتہ داروں اور احباب کے دل میں پیدا فرمایا ہے۔
  • مسلمان کی ذمے داری ہے کہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہے۔ اگر راضی نہیں بھی ہو سکا، تو کم از کم صبر کرنا واجب ہے۔
تشریح: العربية

نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم وحَذَّرَ عن بعض أفعال أهل الجاهلية فقال: ليس منا: الأول: مَن لَطَمَ الخُدُود، وخَصَّ الخَدّ لكونه الغالب في ذلك، وإلا فَضَرْبُ بقية الوجه داخل في النهي. والثاني: شَقَّ ما يُفْتَح من الثوب ليدخل فيه الرأس من شدّة الجزع. والثالث: دَعى بدعوى أهل الجاهلية كالدعاء بالويل والثُّبُور والنياحة والنُّدْبَة وغيرها.

  • هذا الوعيد في الحديث يدل على أنَّ هذه الأعمال من كبائر الذنوب.
  • وجوب الصبر على المصيبة، وتحريم التَّسَخُّط مِن أقدار الله المؤلمة، وإظهار ذلك: بالنياحة أو النَّدْب أو الحَلْق أو الشَّقّ أو غير ذلك.
  • تحريم تَقلِيْد الجاهلية بأمورهم التي لم يُقِرّهم الشارع عليها.
  • لا بأس من الحُزْن والبكاء، فهو لا ينافي الصبر على قضاء الله تعالى، وإنما هو رحمة جعلها الله في قلوب الأقارب والأحباب.
  • على المسلم الرضا بقضاء الله، فإنْ لم يَرْضَ فالصبر واجب عليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید