ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي الخطاب قتادة، قال: قُلْتُ لأَنَسٍ: أكَانَتِ المصَافَحَةُ في أصْحَابِ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم ؟، قَالَ: نَعَم.
ترجمہ
ابوالخطاب قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں مصافحے کا معمول تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔
تشریح
”کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں مصافحے کا معمول تھا“ یعنی کیا صحابہ کرام میں ملاقات کے وقت سلام کے بعد محبت اور اکرام کی زیادتی کے لیے مصافحہ کرنے کا معمول تھا؟ مصافحہ داہنے ہاتھ سے ہوتا ہے۔ مصافحہ کرنے کے بعد جُدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ دونوں کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یہ حدیث ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ اس وقت ہے کہ جب ملاقات کے وقت بات چیت وغیرہ کرنے کا ارادہ ہو۔ جہاں تک بازار وغیرہ میں صرف ملاقات کا تعلق ہے، تو یہ صحابہ کی سنت نہیں۔ یعنی جب تم بازار میں لوگوں کے پاس سے گزرو، تو تمھارے لیے ان کو سلام کرنا ہی کافی ہے۔
تشریح: العربية
قوله: أكانت المصافحة في أصحاب رسول الله، أي: ثابتة وموجودة فيهم حال ملاقاتهم بعد السلام زيادة للمودة والإكرام، والمصافحة تكون باليد اليمنى، وإذا حصل ذلك فإنه يغفر لهما قبل أن يفترقا، وهذا يدل على فضيلة المصافحة إذا لاقاه، وهذا إذا كان لاقاه ليتحدث معه أو ما أشبه ذلك، أما مجرد الملاقاة في السوق فما كان هذا من هدي الصحابة، يعني إذا مررت بالناس في السوق يكفي أن تسلم عليهم.
- مشروعية المصافحة؛ لأنها كانت موجودة فيما بين الصحابة.